یہ انسان
علامہ شامی نے لکھاہے کہ کوئی شخص سیادت نہیں کرسکتا جب تک ایسا نہ ہو کہ اس کے کچھ مُحبّین ہوں جو اس کی مدح کریں اور کچھ حاسدین ہوں جو اس کی مذمت کریں — لَا يَسُودُ سَيِّدٌ بِدُونِ وَدُودٍ يَمْدَحُ، وَحَسُودٍ يَقْدَحُ (حاشیۃ ابن عابدین، جلد 1، صفحہ 24)۔
اصل یہ ہے کہ دنیا دارالامتحان ہے۔اس دنیا میں جو واقعہ ہوتا ہے اس میں امتحان کی مصلحت لازمی طورپر شامل رہتی ہے۔یہی معاملہ کسی صاحب ِسیادت شخص کا ابھرنا ہے۔ ایک سچا انسان جب اللہ کی توفیق سے سیادت وقیادت کے میدان میں ابھرتا ہے تو وہ پورے معاشرہ کے لیےامتحان کا ایک پرچہ بن جاتاہے۔
اب جو لوگ طالبِ حق ہیں ،جن کے اندرسچائی کو پانے کی خواہش موجود ہے۔جو حق کو سب سے بڑا درجہ دیےہوئےہیں،حتیٰ کہ اپنی ذات سے بھی زیادہ ۔وہ پیشگی طور پر نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہوتےہیں ۔وہ ابھرنے والے قائدکو اپنے دل کی آواز سمجھ کر قبول کرتے ہیں ۔ایسے لوگوں کے درمیان وہ محبوب کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔وہ دل سے اس کا اعتراف کرتے ہیں ۔وہ اس کو دعائیں دیتے ہیں۔وہ اپنے بہترین الفاظ اور بہترین جذبات اس کے لیے وقف کردیتےہیں۔
اس کے بر عکس، معاملہ ان لوگوں کا ہوتا ہےجو اپنی ذاتی بڑائی میں جی رہے ہوں ۔جو حق کے طالب نہ ہوں بلکہ اپنی خواہش نفس کے طالب ہوں۔ایسے لوگ جب کسی کو ابھرتا ہوادیکھتے ہیں تو وہ فوراًحسد میں مبتلاہو جاتے ہیں۔وہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ اس شخص کے قد کا بڑھنا گویا میرے قد کا چھوٹاہوناہے۔یہ لوگ حسد کی آگ میں بھڑک اٹھتے ہیں ۔وہ اپنے دائرے سے باہر ابھرنے والے شخص کی مذمت پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں ۔ وہ اس کے خلاف جھوٹےالزام لگاتے ہیں ۔وہ اس کو نیچا دکھانے کے لیے ہروہ پست حرکت کرنے پر تُل جاتے ہیں جو ان کے بس میں ہو— ہر صاحب سیادت آدمی ایک امتحان ہے۔ اس امتحان میں ایک قسم کے لوگ کامیاب ہوتے ہیں اور دوسر ی قسم کے لوگ ناکام۔
