حوصلہ مندی
سب کچھ کھونے کے بعد بھی اگر آپ کے اندر حوصلہ باقی ہے تو سمجھ لیجیے کہ ابھی آپ نے کچھ نہیں کھویا— حوصلہ بلاشبہ سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔ بلکہ حوصلہ ہی زندگی میں سب کچھ ہے۔
آدمی کا اصل سرما یہ اس کا حوصلہ ہے ۔ آدمی حوصلہ ہی کی بنیاد پر بڑی بڑی بات سوچتا ہے۔ حوصلہ ہی کے ذریعہ وہ اقدام کرتا ہے۔ حوصلہ ہی کے بل پر وہ جوکھم میں کو دتا ہے۔ حوصلہ ہی کے سہارے وہ مشکلات پر قابو پاتا ہے۔ حوصلہ ہی کی مدد سے وہ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں ثابت قدم رہتا ہے۔ حوصلہ ہی آدمی کے اندر اعلیٰ کردار پیدا کرتا ہے جو تمام ترقیوں اور کامیابیوں کو پانے کا واحدذریعہ ہے۔
حوصلہ مند انسان وہ ہے جوسطحی باتوں سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے ۔ جو ماحول سے غیر متاثر رہ کر اپنی رائے بنائے ۔ خطرات جس کا راستہ نہ روکیں اور نقصانات جس کو دل شکستہ نہ کر سکیں۔ جو اپنے آپ میں جینے کی طاقت رکھتا ہو ، خواہ تمام لوگ اس کا ساتھ چھوڑ دیں ، خواہ اسباب کے نام کی کوئی چیز اس کے پاس باقی نہ رہے۔
بے حوصلگی سب سے بڑی کمزوری ہے اور حوصلہ سب سے بڑی طاقت ۔ آدمی اگر بے حوصلہ ہو جائے تو 99 چیز رکھتے ہوئے بھی وہ ایک چیز کھونے کی خاطر اپنا خاتمہ کرلےگا۔ اور اگر وہ اپنے حوصلہ کو باقی رکھ سکے تو وہ 99 چیزیں کھو کر ایک چیز کے بل پر دوبارہ اٹھ کر کھڑا ہو جائے گا۔
بے حوصلہ آدمی مرا ہوا آدمی ہے ، اور حوصلہ مند آدمی زندہ آدمی ۔ بے حوصلہ آدمی جس چیز کو مشکل سمجھتا ہے، حوصلہ مند آدمی اس کو اپنے لیے زینہ بنا لیتا ہے۔ بے حوصلہ آدمی جہاں ایک عذر لے کر رک جاتا ہے ، حوصلہ مند آدمی وہاں سے اپنے لیے آگے بڑھنے کا نیا راستہ پالیتا ہے۔ بے حوصلہ انسان کی نظر واقعات کے تاریک پہلو پر ہوتی ہے اور حوصلہ مند انسان کی نظر واقعات کے روشن پہلو پر ۔
ترقیوں کی تاریخ حوصلہ مند انسانوں کے عمل کی تاریخ کا دوسرا نام ہے ۔
