مقابلہ کی ہمت
جے آر ڈی ٹاٹا (J.R.D. Tata) ہندستان کے چند انتہائی بڑے صنعت کاروں میں سے ہیں۔ بوقت تحریر ان کی عمر 85 سال کی ہے۔ اب بھی وہ ہوائی جہازچلاتے ہیں اور برف پر اسکیئنگ (skiing) کرتے ہیں۔ اتنی بڑی عمر میں ان کی اس صحت کا راز کیا ہے، اس کے جواب میں انھوں نے کہا:
One of the things that keep me young is the fact that I am prepared to live dangerously. You must be prepared to take risks - risk in business, sport, marriage, everything, to make life worthwhile. (p. 4)
جو چیزیں مجھ کو بر ابر جوان رکھتی ہیں ان میں سے ایک یہ حقیقت ہے کہ میں خطرات میں جینے کے لیے تیار رہتا ہوں ۔ زندگی کو کار آمد بنانے کی خاطر آپ کو رسک لینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ بزنس، کھیل، شادی، ہر چیز میں رسک ( ہندستان ٹائمس 13 جولائی 1991)۔
انگریزی کا مثل ہے کہ رسک نہیں تو کامیابی بھی نہیں (No risk no gain) یہاں سوال یہ ہے کہ رسک اور خطرات کیوں آدمی کو کامیابی اور ترقی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسک آدمی کی قوتوں کو جگاتا ہے، وہ ایک معمولی انسان کو غیر معمولی انسان بنا دیتا ہے۔
آدمی اگر خطرات کا سامنا نہ کرے، وہ رسک کی صورتوں سے دور رہے تو وہ سست اور کاہل انسان بن جائے گا۔ اس کی فطری صلاحیتیں خوابیدگی کی حالت میں پڑی رہیں گی۔ وہ ایسا بیج ہو گا جو پھٹا نہیں کہ درخت بنے، وہ ایسا ذخیرہ آب ہو گا جس میں موجیں نہیں اٹھیں جو طوفان کی صورت اختیار کرے۔
مگر جب آدمی کو خطرات پیش آتے ہیں، جب اس کی زندگی رسک کی حالت سے دوچار ہوتی ہے تو اس کی شخصیت کے اندر چھپی ہوئی فطری استعداد جاگ اٹھتی ہے۔ حالات کا دباؤ اس کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ متحرک ہو جائے، وہ اپنی ساری طاقت اپنے کام میں لگا دے۔
ہر آدمی کے اندر اتھاہ صلاحیتیں ہیں۔ مگر یہ صلاحیتیں ابتدائی طور پر سوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ وہ کبھی جگائے بغیر نہیں جاگتیں۔ ان صلاحیتوں کو جگانے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ انھیں چیلنج سے سابقہ پیش آئے ۔ انھیں خطرات کا سامنا کرنا پڑے ۔
عافیت کی زندگی بظاہر سکون کی زندگی ہے۔ مگر عافیت کی زندگی کی یہ مہنگی قیمت دینی پڑتی ہے کہ آدمی کی شخصیت ادھوری رہ جائے۔ وہ اپنی امکانی ترقی کے درجہ تک نہ پہنچ سکے ۔
6 جنوری 1990 کے اخبارات جو خبریں لائے، ان میں سے ایک خبر یہ تھی کہ اظہرالدین کو اتفاق رائے سے قومی ٹیم کا کیپٹن مقررکیا گیا ہے ۔ وہ نیوزی لینڈ جانے والی انڈین کرکٹ ٹیم کے لیڈر ہوں گے۔ یہ بات کرکٹ حلقوں کے لیے انتہائی تعجب خیز تھی ۔ کیوں کہ عام خیال تھا کہ یہ عہدہ سری کانت کو دیا جائے گا جو شارجہ کپ، نہرو کپ اور پاکستان کے دورہ پر جانے والی حالیہ ٹیم کے کپتان رہے ہیں۔ 27 سالہ اظہر الدین حیدر آبادی کو کرکٹ میں ان کی مہارت کی وجہ سے ونڈر بوائے (wonder boy) کہا جاتا ہے۔ اظہر الدین ہندستانی کرکٹ کے دوسر ے کم عمر کپتان ہیں۔ ان سے قبل منصور علی خان پٹودی 21 سال کی عمر میں قومی ٹیم کے کپتان بنائے گئے تھے۔
اظہر الدین کو جس چیز نے اس اعلیٰ عہدے پر پہنچایا، وہ ان کی یہ صلاحیت ہے کہ چیلنج پیش آنے پر وہ بے ہمت نہیں ہوتے ، بلکہ مزید طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ دسمبر 1989 میں دورہ پاکستان کے آغاز میں اظہر الدین کا ٹسٹ کیر یر خطرہ میں پڑ گیا تھا۔ کیوں کہ فیصل آباد ٹسٹ کی پہلی باری میں وہ کوئی خاص اسکور نہ کر سکے تھے ، بلکہ صفر پر ہی آوٹ ہو گئے تھے۔ لیکن دوسری باری میں شاندار سنچری بنا کر انھوں نے اپنا ٹسٹ کیریر تباہ ہونے سے بچا لیا۔
ٹائمس آف انڈیا (2 جنوری 1990) کی رپورٹ کے مطابق، سلکشن کمیٹی کے چیرمین مسٹر راج سنگھ دو نگر پور نے کہا کہ اظہر الدین کو منتخب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کو محبوب رکھتے ہیں، جیسا کہ پاکستان کے دورہ میں دیکھا گیا جہاں وہ پہلے ٹسٹ میں چنے نہ جانے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ اور یہ قیادت کی نہایت اہم خصوصیت ہے:
He loves getting out of challenging situations, as was seen on the tour of Pakistan where he was on the verge of being dropped from the first Test, and that's an important ingredient in leadership.
یہ دنیا چیلنج کی دنیا ہے ۔ یہاں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو چیلنج کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ یہ صفت کسی آدمی کے اندر جتنی زیادہ ہوگی اتنی ہی زیادہ بڑی کامیابی وہ اس دنیا میں حاصل کرے گا ۔
