ایک مثال
یہ غالباً 1981 کی بات ہے۔ ایک مسلم نوجوان مجھ سے دہلی میں ملا۔ وہ اپنی کہانی بتاتے ہوئے رونے لگا۔ وہ تعلیم یافتہ تھا اور اس کے پاس ایک اچھا جاب تھا مگر کسی وجہ سے اس کا جاب اس سے چھوٹ گیا۔ اس حادثہ سے وہ اتنا مایوس ہوا کہ اس نے بتایا کہ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ میں خود کشی کرلوں۔ میں نے کہا کہ یہ تو مایوسی کی کوئی بات نہیں۔ ابھی آپ نوجوان ہیں اور ان شاء اللہ آپ بہت دن تک کام کریں گے۔ پھر آپ کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے ان سے ان کی ڈائری مانگی اور اس پر یہ جملہ لکھ دیا:باغ کا مالی کبھی ایک پودے کو اس کی جگہ سے اکھاڑتا ہے، صرف اس لیے کہ اس کو زیادہ بہتر جگہ پر لگائے۔
پھر میں نے کہا کہ آپ خلیج کے ملکوں میں سے کسی ملک میں جائیے اور وہاں کام حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔ وہ ایک عرب ملک میں گئے اور کچھ دنوں بعد لوٹ کر آئے اور بتایا کہ وہاں مجھ کو کوئی کام نہیں ملا۔ میں نے کہا کہ کوشش صرف ایک بار نہیں کی جاتی ، بلکہ بار بار کی جاتی ہے۔ میرے اصرار پر وہ دوبارہ گئے۔ اب وہاں ان کو ایک اچھا کام مل گیا ہے۔ تقریباً بیس سال سے وہ وہاں ہیں اور نہایت کامیاب ہیں۔
اس طرح کے کثیر واقعات ہیں جو آدمی کو یہ سبق دیتے ہیں کہ کوشش کے بعد اس کی کامیابی یقینی ہے۔ مگر کوشش صرف ایک بار عمل کرنے کا نام نہیں۔ کوشش ایک مسلسل عمل ہے۔ کوشش کا عمل ہر حال میں جاری رہتا ہے ، نہ صرف ناکامی کے بعد بلکہ کامیابی کے بعد بھی۔اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی جس مقصد کے لیے کوشش کرے، وہ اس کے خلاف عمل نہ کر رہا ہو۔ مثلاً ایک ڈاکٹر جب کلینک کرے تو اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ لوگوں میں اس کی تصویر یہ نہ بنے کہ اس کو صرف مال سے دلچسپی ہے، مریضوں کی شفایابی سے اس کو کوئی دلچسپی نہیں۔
