غلط سوچ کا مسئلہ
ماہنامہ الرسالہ کے ایک قاری لکھتے ہیں:آپ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ آدمی کے لیے جب کامیابی کا ایک موقع ختم ہو جائے تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ اس کے بعد دوسرا موقع و ہیں اس کے لیے موجود رہتا ہے جس سے وہ اپنی ترقی کا سفر دوبارہ شروع کر سکے۔ سوال یہ ہے کہ آدمی کس طرح جانے کہ یہاں اس کے لیے دوسرا موقع موجود ہے (سہیل احمد ، نئی دہلی)۔
نئے موقع کو پہچاننے کی شرط صرف ایک ہے وہ یہ کہ آدمی بند ذہن کے تحت نہ سوچے بلکہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کے لیے تیار ہو۔ وہ دوسروں کو قصور وار ٹھہرانے کے مزاج سے اپنے آپ کو اوپر اٹھا لے۔ اس کی ایک مثال ہندستان کے مسلمان ہیں۔ 1947 سے پہلے ہمارے لیڈر اور ہمارے اخبارات مسلمانوں کو یہ بتاتے تھے کہ ہندستان میں ان کا مقابلہ ہندو اکثریت سے ہے۔ یہاں وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتے ۔ 1947 میں تقسیم کے بعد بھی یہی ذہن باقی رہا۔ تمام بولنے والے اور لکھنے والے لوگ مسلمانوں کو یہی منفی سبق دیتے رہے۔ کچھ لوگ اس حد تک گئے کہ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ یہاں کا اکثریتی فرقہ ہندستانی مسلمانوں کے حق میں اس ملک کو دوسرا سپین بنانا چاہتا ہے۔
اس غوغا آرائی نے مسلمانوں کے ذہن کو اتنا زیادہ بگاڑا کہ وہ سمجھنے لگے کہ ہندستان میں ان کے لیے کامیابی اور ترقی کے مواقع سرے سے موجود ہی نہیں۔ میں 1947 سے اس کے خلاف لکھتا اور بولتا رہا ہوں۔ آخر کار آزادی کے تقریباً 40 سال بعد مسلمانوں کا ذہن بدلنا شروع ہوا۔ اب ان کی سمجھ میں آیا کہ ہندستان میں ان کے لیے ہر قسم کے مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اب یہاں کے مسلمان ہر میدان میں مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔
اصل یہ ہے کہ اس دنیا کا نظام فطرت کے قوانین کے تحت چلتا ہے، نہ کہ کسی متعصب فرقہ کے منصوبوں یا سازشوں کے تحت۔کوئی فرقہ یا گروہ بالفرض چاہے بھی تو فطرت اس کےراستہ میں رکاوٹ بن جائے گی اور وہ تاریخ کے پہیہ کوالٹی طرف گھمانے میں کامیاب نہ ہوگا۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، اس دنیا کا نظام فطرت کے اٹل قانون کے تحت چل رہا ہے، نہ کہ کسی گروہ کی سازش کے تحت۔ فطرت کے اس قانون کا ایک حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ وہ اکثر حالات میں کمزور فریق کا ساتھ دیتا ہے۔ وہ نام نہاد بڑے گروہ کے مقابلے میں چھوٹے گروہ کی حمایت کرتا ہے۔ یہ قانون قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے:کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں (البقرۃ، 2:249) ۔
ایک کمزور گروہ اپنے مقابلے میں طاقتور گروہ سے کیوں کر بڑھ جاتا ہے اور فطرت کا قانون کس طرح اس کا مددگار بنتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خالق فطرت نے پیدائشی طور پر ہر انسان کے اندر اتھاہ امکانات رکھ دیے ہیں۔ ہر آدمی پیدائشی طور پر غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ مگر ابتدائی طور پر یہ صلاحیت سوئی ہوئی حالت میں ہوتی ہے۔ یہ تمام اعلیٰ امکانات اس کے اندر بالقوۃ طور پر موجود ہوتے ہیں۔ یہ انسان کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ اس بالقوة (potential) کو بالفعل(actual)میں تبدیل کرے۔
یہاں دوبارہ فطرت کا قانون یہ ہے کہ یہ تبدیلی دباؤ کے ذریعہ ہوتی ہے۔ یعنی کسی فرد یا گروہ کے اوپر حالات کا جتنا زیادہ دباؤ پڑتا ہے، اتنا ہی زیادہ اس کی چھپی ہوئی صلاحیت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ یہ عین وہی فطری معاملہ ہے جو مثال کے طور پر، گنّے کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہر گنّا رس سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ مگر معمول کے حالات میں یہ رس گنّے سے باہر نہیں آتا۔ گنّے کا رس صرف اس وقت اندر سے نکل کر باہر آتا ہے جب کہ اس پر غیر معمولی دباؤ پڑے۔ گنّے کو اگر آپ نرم روئی میں رکھ دیں تو اس کا رس کبھی باہر نہیں آئے گا۔ لیکن جب آپ گنّے کو کریشر (crusher) میں ڈالتے ہیں تو اس کے اندر بھرا ہوا میٹھا رس نکل کر باہر آجاتا ہے۔
یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان بھی ہمیشہ دباؤ کے حالات میں ترقی کرتا ہے۔ یہی اصول فرد کے لیے بھی ہے اور یہی اصول جماعت کے لیے بھی۔ اس معاملے کو مشہور برطانی مورخ آرنلڈجے ٹوائن بی نے اپنی کتاب مطالعہ تاریخ (A Study of History)میں کامیابی کےساتھ واضح کیا ہے۔ 12 جلدوں کی اس کتاب میں اس نے بتایا ہے کہ تاریخ کی تمام بڑی بڑی تہذیبوں کو جو لوگ وجود میں لائے وہ اقلیت میں تھے۔ یہ دراصل اقلیتی گروہ ہے جو تاریخ کے تمام بڑے بڑے واقعات کے پیچھے کام کرتا رہا ہے۔
ٹوائن بی کے مطابق، اس کا اصول یہ ہے کہ اکثریتی گروہ کی طرف سے اقلیتی گروہ کو چیلنج پیش آتا ہے۔ یہ چیلنج ،اقلیتی گروہ کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اکثریتی گروہ کے مقابلے میں زیادہ کام کرے۔ وہ اپنے وجود کو باقی رکھنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو دوسروں سے زیادہ استعمال کرے۔ حالات کا یہ دباؤا قلیتی گروہ کو ابھارتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہیر وانہ کر دار ادا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ٹوائن بی نے فطرت کے اس اصول کو تاریخ کی اکیس تہذیبوں کی عملی مثال سے ثابت کیا ہے۔
فطرت کا یہی قانون ہندستانی مسلمانوں پر صادق آتا ہے۔ 1947 سے پہلے ہندستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ وہ اپنی سیاسی مصلحت کے تحت ملک کے چھوٹے اور بڑے گروہ کے در میان ایک موازنہ ( بیلنس) قائم کیے ہوئے تھے۔ 15 اگست 1947کو جب ہندستان آزاد ہوا اور یہاں جمہوری دور آیا تو انگریز کا قائم کردہ موازنہ ٹوٹ گیا۔ اب مسلمانوں کی حیثیت اقلیتی گروہ کی ہو گئی اور ہندوؤں کی حیثیت اکثریتی گروہ کی۔ اس کے بعد ہندستانی مسلمانوں کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہو گئے جو انگریزوں کے زمانے میں موجود نہ تھے۔
ہندستانی مسلمانوں کے لیے بظاہر یہ ایک مسئلہ تھا۔ مگر فطرت کے قانون کے مطابق وہ ایک چیلنج تھا۔ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کی چھپی ہوئی قوتوں کو بیدار کرنے کے ہم معنی تھا۔ بیداری کا یہ عمل ابتدائی طور پر 1947 کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ مگر اپنے پہلے دور میں وہ غیر شعوری حالت میں عمل کرتا رہا۔ اس کے بعد دوسرا دور آیا اور بیداری کا یہ عمل شعوری طور پر شروع ہو گیا۔ اب یہ عمل اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ہر جگہ اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے دہلی میں مسلمانوں کا ایک جلسہ ہوا۔ اس کا موضوع تھا مسلمانوں کا معاشی پچھڑا پن کیوں؟ یہاں مختلف مقررین نے اظہار خیال کیا۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ مفروضہ بجائے خود غلط ہے کہ اس ملک کے مسلمان پچھڑ گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ اصل حقیقت بر عکس طور پر یہ ہے کہ اس ملک کے تقریباً ہر مسلمان نے 1947 کے بعد ترقی کی ہے۔ میں نے کہا کہ صنعتی انقلاب کے بعد ساری دنیا میں اور خود ہندستان میں ایک اقتصادی انفجار (economic explosion) آیا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ایک قسم کا خلافِ زمانہ قول ہے کہ مسلمانوں کو اقتصادی اعتبار سے پچھڑا ہو اگر وہ بتایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا بیان بظاہر ہی قابلِ رد ہے۔
پھر میں نے اپنی تقریر میں حاضرین کو براہ ِراست خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جو مسلمان اس ہال کے اندر موجود ہیں، ان میں سے ہر مسلمان کی اقتصادی حالت 1947 کے مقابلے میں آج زیادہ بہتر ہے۔ اور اگر آپ میں سے کسی کا معاملہ اس سے مختلف ہو تو وہ کھڑا ہو کر میرے اس بیان کی تردید کرے۔ حاضرین میں سے کسی ایک مسلمان نے بھی یہ نہیں کہا کہ 1947 میں میری جو معاشی حالت تھی اس کے مقابلے میں آج میری حالت خراب ہو چکی ہے۔
میں نے اس معاملے کا باقاعدہ سروے کیا ہے اور اپنی کتاب ’’ہندستانی مسلمان‘‘ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق، ہندستان کا تقریباً ہر مسلم ادارہ ، ہر مسلم جماعت، ہر مسجد اور ہر مدرسہ 1947 کے مقابلے میں آج دس گنا اور چو گنا تر قی کر چکا ہے۔ تقریباً ہر مسلم خاندان 1947 کے مقابلے میں آج زیادہ بہتر زندگی گزار رہا ہے۔ تعلیم اور اقتصادیات کے میدان میں ہندستانی مسلمان 1947 کے مقابلے میں آج بہت زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ یہ ترقی اتنا عام ہو چکی ہےکہ کسی بھی مسلم خاندان کا جائزہ لے کر اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔
اس معاملے کی ایک چشم کشا مثال وہ ہے جو جولائی 1999 میں سامنے آئی۔ نیویارک کے مشہور اقتصادی میگزین فوربس (Forbes) نے ساری دنیا کے ارب پتیوں کا سروے کیا۔ اس سلسلے میں اس نے ہندستان کے ارب پتیوں کا بھی سروے کیا۔ اس سروے کے نتائج فور بس میگزین کے شمارہ 5 جولائی 1999 میں شائع ہوئے۔ اس کے بعد وہ ہندستان کے تمام اخبار وں، مثلاً ٹائمس آف انڈیا، ہندستان ٹائمس، وغیرہ میں نقل ہوئے۔
فوربس میگزین کے سروے کے مطابق اس وقت ہندستان کے ارب پتیوں (billionaires) میں جو آدمی نمبر ایک پر ہے وہ بنگلور کا ایک مسلمان ہے جس کا نام عظیم ہاشم پریم جی ہے۔ اس کے علاوہ ہندستان کے دس انتہائی بڑے دولت مندوں میں سے تین آدمی مسلمان ہیں۔ انٹیلی جنٹ انوسٹر (Intelligent Investor) کے شمارہ 14 جولائی 1999 میں یہ رپورٹ ایٹ دی ٹاپ ( At The Top )کے عنوان سے چھپی ہے۔ ٹائمس آف انڈیا، نئی دہلی کے شمارہ 27 جون 1999 میں یہ رپورٹ ویری رچ (Very Rich) کے عنوان سے چھپی ہے۔ دوسرے اخباروں میں یہ رپورٹ رچسٹ انڈین (Richest Indian) وغیرہ عنوانات کے تحت شائع ہوئی ہے۔
