سب سے زیادہ کامیاب
جون 1999 میں ایک غیر متوقع خبر میڈیا میں شائع ہوئی۔ وہ یہ کہ ہندستان کا سب سے زیادہ امیر آدمی بنگلور کا ایک مسلمان ہے۔ اس کا نام ہے:عظیم ہاشم پر یم جی (پیدائش1945)۔
اس واقعے کی تفصیلات ٹائمس آف انڈیا (27 جون 1999) اور اس زمانے کے دوسرے اخبارات و رسائل میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کے مطابق، مسٹر عظیم ہاشم پریم جی نے اتنی زیادہ دولت کمائی ہے کہ اب وہ ہندستان کے سب سے زیادہ امیر آدمی بن چکے ہیں حتٰی کہ کمار منگلم بر لا اور دھیر و بھائی امبانی سے بھی زیادہ۔
ان کا پھیلا ہوا کاروبار صابن سے لے کر کمپیوٹر تک وسیع ہے۔ اپنے والد کی وفات کی بنا پر وہ اپنی انجینئرنگ کی تعلیم مکمل نہیں کر سکے تھے۔ مگر آج ان کے تجارتی اداروں میں سیکڑوں انجینئر اور غیر انجینئر ملازم ہیں۔
وہ بے حد محنتی ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ انوکھی صفات کے آدمی ہیں۔ مثلاً وہ بہت کم بولتے ہیں۔ ایک بار جب کہ ان کی میز کے چاروں طرف ماہرین بیٹھے ہوئے ایک پروجیکٹ پر اظہار خیال کر رہے تھے ، مسٹر عظیم ہاشم پریم جی پوری میٹنگ کے دوران ایک لفظ بھی نہیں بولے۔ وہ صرف کاغذات اور پنسل لے کر اپنا نوٹ تیار کرتے رہے۔ وہ بے حد سادہ ہیں۔ اس قدر امیر ہونے کے باوجود وہ جہاز کے اکانومی کلاس میں سفر کرتے ہیں۔ وہ فائیو اسٹار ہوٹلوں میں کبھی نہیں ٹھہرتے ، وغیرہ۔ ایک بار وہ بنگلور ہوائی اڈہ پر اترے تو اطلاع کے باوجود ایر پورٹ پر آفس کی کار موجود نہ تھی۔ وہ خاموشی سے آٹو رکشہ لے کر اپنے دفتر آگئے۔ اور برہمی کا اظہار کیے بغیرخاموشی سے اپنا کام شروع کر دیا۔
کامیابی ہر جگہ حاصل کی جاسکتی ہے، بشر طیکہ آدمی اس کے لیے ضروری جد و جہد کی شرط پورا کرے۔
