حکمت معاملہ
ایک تعلیم یافتہ مسلمان ایک سرکاری محکمہ میں اچھی سروس میں ہیں۔ ان کے افسر اعلیٰ سے ان کا جھگڑا ہو گیا۔ وہ گھر لوٹے تو ان کے دماغ میں سخت ٹینشن تھی۔ ان کو ڈر تھا کہ مذکورہ افسران کی سروس بک خراب کر دے گا اور اس کے نتیجہ میں ان کا پروموشن رک جائے گا۔ اس مشن کی وجہ سے ان کے سر میں اتنا سخت درد ہوا کہ وہ گھر آکر بستر پر لیٹ گئے اور اس کے بعد کوئی کام نہ کر سکے۔
ان سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے کہا کہ آپ نے جو کیا وہ درست نہ تھا۔ میں نے ان کو ایک حدیث سنائی۔ ایک قبیلہ کا سردار مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جاؤ اس کا استقبال کرو ۔ اس موقع پر آپ نے ایک اصولی بات یہ فرمائی کہ:انْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ(سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4842)۔ یعنی لوگوں کے ساتھ ان کے رتبہ کے مطابق معاملہ کرو۔
شریعت کے احکام سب کے سب فطرت پہ مبنی ہیں۔ یہ خو د فطرت کا تقاضا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کا لحاظ کریں۔ کوئی شخص جب دوسرے شخص سے معاملہ کرے تو وہ اس طرح معاملہ کرے کہ دوسرا شخص اس کو اپنی تحقیر محسوس نہ کرے۔ ہر شخص یہ سمجھے کہ اس کو اس کے مقام کے مطابق مناسب عزت (due respect) دی جارہی ہے۔ جس سماج میں یہ روایات ہوں اس سماج میں باہمی محبت بڑھتی ہے اور سماجی انتشار کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔
یہ فطرت کا ایک اصول ہے اور قدیم زمانے سے مختلف شکلوں میں اس کو دہرایا جاتا رہا ہے۔ اسی کو ایک انگریزی مثل میں اس طرح کہا گیا ہے کہ افسر ہمیشہ حق پر ہوتا ہے:
Boss is always right.
یہ گو یا معاملاتی حکمت یا معاملاتی شریعت ہے۔ اس کا لحاظ کرنا ہر ایک کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جس سماج میں اس کی رعایت نہ کی جائے وہ سماج کبھی اچھا سماج نہیں بن سکتا۔
