عبرت ناک
عراق کے صدر صد ام حسین نے 12 اگست1990 کو اپنی فوجیں کویت میں داخل کر دیں اور اس پر قبضہ کر لیا۔ یہ واضح طور پر ایک جارحانہ فعل تھا۔ اس کے بعد 6 اگست کو بغداد میں امریکہ کے قائم مقام سفیر جوزف ولسن نے صدام حسین سے ملاقات کی اور انھیں امریکی صدر جارج بش کا پیغام پہنچایا ۔ امریکی سفیر نے ڈپلومیٹک انداز میں صدام حسین کو متنبہ کیا کہ انھوں نے جارحیت کا فعل کیا ہے ۔ کویت سے ان کے جو اختلافات تھے ، اس کو انھیں باہمی بات چیت سے حل کرنا چاہیے تھا، نہ کہ طاقت کے استعمال سے ۔ صدام حسین اس وقت فاتحا نہ جوش میں تھے ۔ انھوں نے امریکی سفیر کو جو جواب دیا وہ انگریزی رپورٹنگ میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا تھا:
Give my regards to President Bush and tell him that Al-Sabah family has now become history.
صدربش کو میر اسلام پہنچائیے اور ان سے کہہ دیجیے کہ کو یت کا شاہی خاندان الصباح اب تاریخ کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ صدام حسین نے اس کے اگلے دن ، 17اگست کو مزید یہ اعلان کر دیا کہ کویت اب کویت نہیں رہا۔ وہ اب عراق کا 19 واں صوبہ ہے۔
مگر کہانی یہیں ختم نہیں ۔ اس کے بعد کویت کی درخواست پر امریکہ براہ راست سامنے آگیا۔ اس نے صدام حسین کو وارننگ دی کہ وہ 15 جنوری 1991 تک اپنی فوجیں کویت سے نکال کر واپس لے جائیں ۔ مگر صدام حسین نے اس الٹی میٹم کو نظر انداز کر دیا ۔ اس کے بعد 17 جنوری 1991 کو امریکہ نے عراق کے اوپر زبر دست حملہ کیا ۔ صدام کی فوجیں اس کے دفاع میں سراسر نا کام رہیں۔ یکم مارچ 1991 کو یہ جنگ عراق کی بدترین شکست پر ختم ہو گئی۔
اس کے بعد امریکہ نے چاروں طرف سے عراق کی ناکہ بندی کر دی۔ اس ناکہ بندی نے عراق کی اقتصادیات کو تباہ کر دیا۔ چنانچہ صدام حسین نے مجبور ہو کر امریکہ کے تمام مطالبات کو مان لیا۔ آخر کار10نومبر 1994 کو صدام حسین کی قیادت میں عراقی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا۔ اس میں متفقہ طور پر یہ روز و لیوشن پاس کیا گیا کہ عراق ایک آزاد ریاست (independent state) کے طور پر کو یت کو تسلیم کرتا ہے۔
عراق کے ڈپٹی پرائم منسٹر طارق عزیز نے 14 نومبر 1994 کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے نیو یارک میں ملاقات کی اور ان کو تحریری طور پر عراق کے اس فیصلےسے مطلع کر دیا (ٹائمس آف انڈیا 15 نومبر 1994)۔
صدام حسین کو یت کو تاریخ کا حصہ بنانا چاہتے تھے مگر وہ خود تاریخ کا حصہ بن گئے۔ اس فعل سے انھوں نے ثابت کیا کہ وہ صرف اپنے حال کو جانتے تھے، اپنے مستقبل کے بارے میں وہ آخری حدتک بے خبر بنے ہوئے تھے۔
یہی موجودہ دنیا میں ہر انسان کی کہانی ہے ۔ ہر آدمی اپنے آج کو جانتا ہے ، اپنے کل کو وہ نہیں جانتا۔ اپنی کارروائی کی اسے خبر ہے، مگر خدا کے فرشتے اس کے خلاف جو کارروائی کر رہے ہیں، اس کی اسے خبر نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کی طاقت سے بھی محروم ہے۔
اس واقعے میں یہ سبق ہے کہ دوسرے کی زمین پر کسی کے لیے اپنی ترقی کا جھنڈا گاڑنا ممکن نہیں۔ دوسرے کی ملکیت کو چھین کر اپنا رقبہ بڑھانے کی اسکیم اس دنیا میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو زندہ رہنے اور ترقی کرنے کا حق ہے لیکن کوئی شخص دوسرے کو مٹا کر اپنی ترقی میں اضافہ نہیں کر سکتا۔
واقعات بتاتے ہیں کہ اپنی حد کے اندر رہتے ہوئے جو ترقی حاصل کی جاتی ہے وہ ترقی مستحکم ہوتی ہے اور وہ مسلسل باقی رہتی ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی دوسرے کا حصہ چھین کر اپنے کو ترقی یافتہ بنانا چاہے اس کی ترقی میں استحکام نہ ہو گا۔ ایسا آدمی آخر کار دگنا محرومی سے دوچار ہوتا ہے۔ وہ اپنے حاصل شدہ حصہ کو بھی کھو دیتا ہے، اور دوسرے کا حصہ تو اسے ملنے والا ہی نہ تھا۔
کوئی شخص خواہ وہ معمولی حیثیت کا ہو یا وہ سیاسی اقتدار کا مالک ہو، کسی بھی حال میں وہ زندگی کے اس قانون سے مستثنیٰ نہیں۔ کوئی بھی شخص اتناطاقتور نہیں کہ وہ اس قانون سے بچ جائے، وہ اس قانون کو اپنے اوپر نافذ نہ ہونے دے۔ یہ قانون کسی ایک شخص کے لیے جتنا اٹل ہے اتنا ہی وہ دوسروں کے لیے بھی اٹل ہے۔
