خاموشی
ارنسٹ سیا چری (Ernest Psichari) ایک فرانسیسی رائٹر ہے ۔ وہ 1883 میں پیرس میں پیدا ہوا ۔ 1914 میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ ابتداء ً آزاد خیال اور ملحد تھا۔ مگر بعد کو وہ مسیحی عقیدہ کی طرف لوٹ آیا اور خدا اور مذہب کو ماننے والا بن گیا۔
ارنسٹ سیا چری مشہور مؤرخ ارنسٹ ریناں کا پوتا تھا۔ وہ ان لوگوں میں سمجھا جاتا ہے جنھوں نے 1914 سے پہلے فرانس میں روحانی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس کے ایک قول کا ترجمہ انگریزی زبان میں اس طرح کیا گیا ہے— خاموشی آسمان کا ایک ٹکڑا ہے جو زمین پراتارا گیا ہے:
Silence is a bit of heaven that comes down to earth
خاموشی فطرت کی زبان ہے ۔ ایک آدمی جب خاموش ہوتا ہے تو وہ عالم فطرت کا ہم زبان بن جاتا ہے ۔ اس کی سطح وہ ہو جاتی ہے جو فطرت کی سطح ہے ۔ اور فطرت کی سطح سےبلند سطح اور کوئی نہیں ۔
انسان مطلق معنوں میں خاموش نہیں رہ سکتا۔ انسان جب بظاہر خاموش ہوتا ہے تو اس وقت وہ دوسروں کے لیے خاموش ہوتا ہے مگر اپنے لیے خاموش نہیں ہوتا۔ وہ خارجی دنیا کی طرف سے خاموش ہو کر اپنی داخلی دنیا سے ہم کلام ہو جاتا ہے۔
چپ رہنا ایک عظیم عمل ہے۔ جب آدمی چپ رہتا ہے تو وہ زمین کی باتوں سے زیادہ آسمان کی باتوں پر دھیان دے رہا ہوتا ہے ۔ وہ انسان سے زیادہ فرشتوں کی سرگوشیوں پر کان لگائے ہوئے ہوتا ہے ۔ وہ دوسروں سے زیادہ خود اپنی بات کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ وہ سطحی اور ظاہری باتوں سے زیادہ گہری حقیقتوں کی دریافت میں مشغول ہوتا ہے ۔
آدمی جب بولتا ہے تو وہ محدود دنیا میں ہوتا ہے ، آدمی جب چپ رہتا ہے تو وہ لامحدود دنیا کی وسعتوں میں پہنچ جاتا ہے ۔
