حکیمانہ تدبیر
فساد صرف حکیما نہ تد بیروں سے ختم ہوتا ہے، نہ کہ فساد ختم کرو کا مطالبہ کرنے سے— یہ اصول بلاشبہ صد فی صد درست ہے ۔ اس کے سِو ا فساد کے مسئلہ کا کوئی حل نہیں۔
دو انسانی گروہ جب ایک ساتھ رہیں گے تو عین فطری قانون کے تحت ایسا ہو گا کہ ان کے درمیان بار بار اختلاف اور نزاع کے مواقع پیش آئیں گے ۔ مثلاً ایک کا نعرہ دوسرے کو بر الگے گا۔ ایک گروہ دوسرے گروہ کے عبادت خانہ کا وہ احترام نہ کر سکے گا جیسا کہ وہ گر وہ کرتا ہے جس کا وہ عبادت خانہ ہے۔
اس طرح کی مختلف صورتیں ہیں جن میں ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے شکایت پیدا ہوگی۔ اس شکایت کا حل جو ابی شکایت نہیں ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اس کو نظرانداز کیا جائے۔ اختلافی امور میں رواداری اور تحمل کا اصول اختیار کرنا چاہیے، نہ کہ نزاع اور جوابی کارروائی کا۔
ہم فطرت سے لڑ نہیں سکتے ۔ اور اختلافی بات پیش آنے پر ردِّ عمل کا طریقہ اختیار کر نا گویا فطرت سے لڑنا ہے ۔ کیوں کہ اس طرح کے اختلافات عین فطری اسباب کے تحت پیش آتے ہیں۔ ایسی حالت میں فطرت سے مطابقت مسئلہ کا حل ہے، فطرت سے ٹکراؤکبھی مسئلہ کا حل نہیں بن سکتا۔
ہر مسئلہ کا حل ہے ۔ مگر یہ حل صرف حکیمانہ تدبیر میں ہے۔ اگر ہم ایسا کریں کہ مسئلہ پیش آنے کے بعد ہم جھنجھلاہٹ کا شکار نہ ہوں، بلکہ ٹھنڈے طریقہ سے پوری صورت حال پر غور کریں۔ مسئلہ کو صرف مسئلے کی حیثیت سے دیکھیں، اس کو ساکھ اور وقار کا معاملہ نہ بنائیں تو یقینی ہے کہ ہم ایسی تدبیر دریافت کر لیں گے جس کے ذریعہ اس مسئلے کو آسانی کے ساتھ حل کیا جاسکے۔
جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو اپنے آپ کو منفی جذبات کا شکار ہونے سے بچائیے۔ اپنے ذہن کو صرف تدبیر ڈھونڈنے میں لگا دیجیے ۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ مسئلہ اس طرح حل کر لیا گیا ہے جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔
