حق کے مطابق
اپنے حق سے زیادہ چاہنا اپنے آپ کو اپنے واقعی حق سے بھی محروم کر لینا ہے— جب آدمی صرف اپنے حق کا طالب ہو تو پورا نظام عالم اس کا ساتھ دے رہا ہوتا ہے ، اور جب وہ اپنے حق سے زیادہ کا طالب بن جائے تو نظام عالم اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پہلا آدمی کامیاب ہوتاہے، اور دوسرا آدمی ناکام۔
جب آپ اپنے حق کے بقدر چاہتے ہیں تو آپ وہ چیز چاہ رہے ہوتے ہیں جو واقعتاًآپ کی ہے، جو از روئے انصاف آپ ہی کو ملنا چاہیے۔ مگر جب آپ اپنے واقعی حق سے زیادہ چاہیں تو گویا آپ ایسی چیز چاہ رہے ہیں جو از روئے انصاف آپ کی چیز نہیں ہے ، بلکہ دوسرے کی چیز ہے ۔ پھر دوسرا شخص کیوں آپ کو اپنی چیز دینے پر راضی ہو جائے گا۔
جب بھی آدمی اپنے حق سے زیادہ چاہے تو فوراً اس کا ٹکراؤ دوسروں سے شروع ہو جاتا ہے۔ دوسرے لوگ اس کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اب کش مکش اور ضد اور مزاحمت وجود میں آتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اصل سے زیادہ کی طلب میں اصل کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔
اپنے حق سے زیادہ کی طلب کرتے ہی یہ ہوتا ہے کہ آدمی تضاد میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے حصہ کی چیز لینے کے لیے ایک دلیل دیتا ہے ، اور دوسرے کے حصہ کی چیز پر قبضہ کرنے کے لیے دوسری دلیل استعمال کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے مقدمہ کو خود ہی کمزور کر لیتا ہے ۔ وہ اپنی نفی آپ کر دیتا ہے۔ دو قسم کی دلیلوں سے وہ ثابت کرتا ہے کہ پہلی چیزا گر اس کی ہے تو دوسری چیز اس کی نہیں ہے، اور اگر دوسری چیز اس کی ہے تو پہلی چیز اس کی نہیں ہوسکتی۔
ایسے آدمی کے اوپر وہ مثال صادق آتی ہے کہ جو شخص دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑے وہ ایک کو بھی نہیں پکڑسکتا۔ اسی طرح جو شخص اپنے اصل حق کے ساتھ مزید کا طالب بنے، وہ اصل کو بھی کھو دے گا اور اسی کے ساتھ مزید کو بھی۔
پوری انسانی تاریخ ، ایک اعتبار سے، اسی حقیقت کا عملی اظہار ہے۔
