زندگی کی دوڑ
سمندر میں ان گنت مچھلیاں ہوتی ہیں۔ چھوٹی بھی اور بڑی بھی۔ یہ مچھلیاں مسلسل طور پانی کے اندر دوڑتی رہتی ہیں۔ چھوٹی مچھلی کو ہر لمحہ یہ خطرہ ہوتا ہے کہ بڑی مچھلی اس کو کھا جائے گی۔ چھوٹی مچھلی اگر سمندر سے سوال کرے کہ یہ بڑی مچھلیاں کب تک چھوٹی مچھلیوں کو کھاتی رہیں گی تو سمندر کا جواب ہو گا کہ— اس وقت تک جب کہ چھوٹی مچھلی اپنے آپ کو اتنا بڑا نہ کر لے کہ وہ بڑی مچھلی کے منھ میں نہ آسکے۔
زندگی اسی دوڑ کا نام ہے۔ اس دنیا کا پورا نظام اسی دوڑ یا مسابقت کے اصول پر قائم ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ ہم اس کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کریں۔ اس قسم کا احتجاجی طوفان کسی مفروضہ ظالم کے خلاف نہیں ، وہ براہ راست فطرت کے نظام کے خلاف ہے، اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ فطرت کے خلاف کوئی بھی شکایت یا احتجاج کارگر ہونے والا نہیں۔
مزید یہ کہ دوڑ یا مسابقت کا یہ نظام کوئی ظلم و زیادتی کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ہر ایک کے لیے زندگی اور ترقی کا زینہ ہے، اگر یہ دوڑ کا نظام نہ رہے تو ہر ایک جمود کا شکار ہو جائے۔ زندگی کی سر گرمیاں تمام کی تمام ٹھپ ہو کر رہ جائیں۔
ہر انسان کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک با اعتبار امکان اور دوسری با اعتبار واقعہ ۔ ایک انسان جب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے تو واقعے کے اعتبار سے وہ ایک بچہ ہوتا ہے مگر امکان کے اعتبار سے وہ ایک پورا انسان ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر پیدا ہونے والا واقعے کے اعتبار سے ایک غیر عالم آدمی ہوتا ہے مگر امکان کے اعتبار سے وہ ایک ایسا آدمی ہوتا ہے جو اپنے دماغ میں عمل کا خزانہ سمیٹے ہوئے ہو۔ یہی معاملہ تمام دوسرے پہلوؤں کا ہے ۔ ہر آدمی کے اندر غیر معمولی امکانات کا سرمایہ چھپا ہوا ہے۔ یہ امکانات صرف اس وقت واقعہ بنتے ہیں جب کہ وہ زندگی کی دوڑ میں حوصلہ مندانہ طور پر شریک ہو جائے۔
