اعزاز یا ذمہ داری
وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے حال میں مرکزی کیبنٹ میں اضافہ کیا ہے۔ جونئے وزیر لیے گئے ہیں ان میں سے ایک29 سالہ خاتون سیلجا چودھری (Selja Chaudhary) ہیں۔ وہ حکومت ہند کی وزارت تعلیم میں اسٹیٹ منسٹر مقرر کی گئی ہیں۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب میں نے ٹیلی فون کے دوسری طرف سے کیبنٹ سکریٹری کی آواز سنی جس میں یہ خبر دی گئی تھی کہ مجھے وزارت کے عہدہ پر مقرر کیا گیا ہے تو مجھے یقین نہیں آیا کہ یہ صحیح ہے ۔ بظاہر میں اچھل تو نہیں پڑی مگر واقعہ یہ ہے کہ مجھے اس خبر سے بے حد خوشی ہوئی:
I didn't believe it was true when I heard the Cabinet Secretary's voice on the other end of the line informing me of my new office. I did not exactly jump but I was really very happy. (The Pioneer, New Delhi, July 12, 1992, p. 5)
یہ ایک علامتی واقعہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہمارے حکمراں نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ملک کو امن اور ترقی کا ملک نہ بنا سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد جن لوگوں کو اقتدار کا منصب ملا ان کی نظر منصب کے اعزاز پر چلی گئی، نہ کہ منصب کی ذمہ داریوں پر ۔ اور جن لوگوں کا یہ حال ہو وہ کبھی ملک میں ترقی اور خوش حالی کا دور نہیں لا سکتے۔ جن لوگوں کی نظر منصب کے اعزاز پر ہو وہ منصب کو صرف اپنی ترقی کا ذریعہ بنائیں گے۔ اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے سوا کسی اور چیز سے انھیں کوئی حقیقی دل چسپی نہیں ہو سکتی۔ وہ اپنے ذاتی فائدہ کی خاطر پورے ملک کو قربان کر سکتے ہیں۔ وہ اپنی ذات کے لیے پوری قوم کا سودا کر سکتے ہیں۔
اس کے برعکس، جس آدمی کی نظر منصب کی ذمہ داریوں پر ہو، وہ جب کسی منصب کو پاتا ہے تو وہ کانپ اٹھتا ہے۔ اس کے لیے منصب ایک ایسا بوجھ بن جاتا ہے جس کے نیچے اس کی شخصیت دب کر رہ جائے۔ اول الذکر اگرقہقہوں کے ساتھ منصب کا استقبال کرتا ہے تو ثانی الذکر غم کے آنسوؤں کے ساتھ۔ جو لوگ منصب کو ذمہ داری سمجھیں ان کے لیے منصب کو پانا اپنی زندگی کی ویرانی کے ہم معنی بن جاتا ہے ۔مگر یہی وہ لوگ ہیں جو ملک کو ایک سرسبزوشاداب باغ میں تبدیل کرنے کا کارنامہ انجام دیتے ہیں۔
