سب سے مشکل، سب سے آسان
’’تم نے غلطی کی‘‘ اور ’’میں نے غلطی کی‘‘، ان دونوں جملوں میں ظاہر کے اعتبار سے صرف ایک لفظ کا فرق ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ پہلا جملہ کہنے والےکروروں انسان دنیا میں موجود ہیں، مگر دوسرا جملہ کہنے والا شاید کوئی ایک شخص بھی نہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلا جملہ دوسرے شخص کی نفی کرتا ہے اور دوسرا جملہ خود قائل کی نفی کرتا ہے۔ اور دوسرے کی نفی کر نا بلاشبہ سب سے زیادہ آسان کام ہے، اور اپنی نفی کرنا بلاشبہ سب سے زیادہ مشکل کام ۔
موجودہ زمانے کی وہ تمام تحریکیں جن کے گرد انسانوں کی بھیڑدکھائی دیتی ہے، وہ سب وہی تحریکیں ہیں جو ’’تم نے غلطی کی‘‘ کے نعرہ پر اٹھیں۔ تمام مقبول تحریکوں اور تمام بڑے بڑے لیڈروں کی مقبولیت کا واحد راز یہ ہے کہ وہ باہر سے کسی شخص یا قوم کو غلط ثابت کرنے کے لیے اٹھے۔ اگر وہ خود اپنی نفی کرنے کا پیغام لے کر اٹھتے تو وہ اپنے ماحول میں اجنبی بن جاتے ، نہ یہ کہ ان کے گرد انسانوں کی بھیڑ اکٹھا ہو۔
’’تم نے غلطی کی‘‘ ایک جھوٹا کلمہ ہے، اور ’’میں نے غلطی کی‘‘ ایک سچا کلمہ ۔ خدا کا قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں جھوٹا کلمہ جڑ نہ پکڑ سکے ، وہ جھاڑ جھنکاڑ بن کر رہ جائے ۔ اس کے برعکس جو کہ سچاکلمہ ہو ، وہ خدا کی اس دنیا میں جڑ پکڑ تا ہے۔ وہ زمین میں بھی اپنی جگہ حاصل کرتا ہے اور آسمان کی وسعتوں میں بھی۔
’’میں نے غلطی کی‘‘ معرفت کا کلمہ ہے ۔ وہ آدمی کی شخصیت میں ارتقاء پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کو ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف لے جاتا ہے ۔ اس کے برعکس ’’تم نے غلطی کی‘‘ ایک سطحی کلمہ ہے۔ وہ آدمی کو گہرے معانی سے آشنا نہیں کرتا۔ وہ آدمی کو ایک ایسے کام میں مشغول کر دیتا ہے جو سرے سے کرنے کا کوئی کام ہی نہیں ۔ ’’میں نے غلطی کی‘‘ اصلاح ہے اور ’’تم نے غلطی کی‘‘ تخریب۔ ’’میں نے غلطی کی‘‘ خدا پرستی ہے اور ’’تم نے غلطی کی‘‘ نفس پرستی ۔ ’’میں نے غلطی کی‘‘ ایک نیکی ہے اور ’’تم نے غلطی کی‘‘ صرف لیڈری ’’میں نے غلطی کی‘‘ دینداری ہے اور ’’تم نے غلطی کی‘‘ دنیا داری۔
