نیا طلوع
اس دنیا میں کوئی غروب آخری نہیں ۔ ہر غروب کے بعد ایک نیا طلوع مقدر ہے ۔ بشرطیکہ آدمی اپنی شام کو دوبارہ صبح میں تبدیل کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو— اس دنیا کا سب سے بڑا واقعہ روزانہ سورج کا ڈو بنا اور پھر دوبارہ اس کا نکلنا ہے۔ یہ سب سے بڑا واقعہ اس سب سے بڑی حقیقت کا مظاہرہ ہے کہ ہر ہار کے بعد دوبارہ جیت ہے ، اور ہر کھونے کے بعد دوبارہ پانا۔
ہم جس دنیا میں ہیں ، اس کا مالک کوئی انسان نہیں ہے، بلکہ خدا ہے جو تمام طاقتوں سے زیادہ طاقت رکھنے والا ہے۔ جس وقت کوئی انسان آپ کو محرومی سے دوچار کرتا ہے۔ یاجس لمحہ حالات کا کوئی جھونکا آپ کے چراغ کو بجھا دیتا ہے ، عین اسی وقت خدا یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ میری دنیا میں ہر محروم ہونے والے کو دوبارہ دیا جاتا ہے ، اور ہر بجھے ہوئے چراغ کو از سر نو روشن کیا جاتا ہے۔
اس خدائی امکان کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کی شرط صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ آدمی اپنی متاع کو کھونے کے بعد۔ اپنی ہمت کو نہ کھوئے۔ وہ ہر گرنے کے بعد دوبارہ اٹھے، وہ محرومی کے بعد دوبارہ حاصل کرنے کی جدوجہد میں لگ جائے۔
شام کے بعد دوبارہ صبح کو ظہور میں لانے کے لیے کائناتی طاقت درکار ہے ۔ پھر جس دنیا میں اتنے بڑے واقعے کا ظہور ممکن ہو وہاں یہ نسبتاً بہت چھوٹا واقعہ ظہور میں کیوں نہیں آئے گا کہ ایک آدمی یا ایک قوم ایک بار گرنے کے بعد دوبارہ اٹھ جائے۔
خدا نے یہ مقدر کر دیا ہے کہ کسی کی شکست اس کے لیے آخری شکست نہ بنے۔ ایسی حالت میں شکست پر بے ہمت ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی آدمی کو اپنی دوبارہ فتح پر اتنا ہی یقین ہونا چاہیے جتنا کوئی شخص شام کے بعد دوبارہ صبح کے وقت سورج کے نکلنے کا یقین رکھتا ہے۔
لوگ عام طور پر ’’جو کچھ ہو چکا ہے‘‘ اس کو جانتے ہیں۔ ’’جو کچھ ہو سکتا ہے‘‘ اس کو نہیں جانتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر لوگ اس دوسری بات کو جانیں تو وہ کبھی مایوس نہ ہوں۔ کیوں کہ اس دنیا میں مایوسی وقتی ہے اور امید دائمی۔
