دل جیتنا
زندگی کا اصول ایک لفظ میں یہ ہے کہ— جیسا دینا ویسا پانا۔ اگر آپ دوسروں کو نفرت دے رہے ہوں تو آپ کو بھی دوسروں سے نفرت ملے گی۔ اگر آپ کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے محبت کا تحفہ ہے تو دوسروں کی طرف سے بھی آپ کو محبت کا تحفہ دیا جائے گا۔ اگر آپ اپنے سماج میں مسائل کو حل کرنے کا ذریعہ بنے ہوئے ہوں تو پورا سماج آپ کو اپنے سردار کے روپ میں دیکھنے لگے گا۔
خدا نے خدمت اور نفع بخشی میں بے پناہ کشش رکھی ہے۔ اس میں یہ طاقت ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں کو مسخر کر سکے۔ ایسا آدمی لوگوں کے درمیان اپنے آپ مقبولیت حاصل کرلیتا ہے۔ اس کو دوسروں سے وہ سب کچھ مل جاتا ہے جو وہ چاہتا تھا، کیوں کہ اس نے بھی دوسروں کو وہ سب کچھ دے دیا تھا جن کو وہ اپنے لیے چاہتے تھے۔
دوسروں کے خیر خواہ بن جائیے اور پھر آپ کو دوسروں سے کوئی شکایت نہ ہو گی۔ دوسروں کے کام آئیے اور پھر آپ کا بھی کوئی کام اٹکا ہوا نہیں رہے گا۔
اس دنیا میں ہر آدمی مجبور ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر زندگی گزارے، یہاں کسی کے لیے بھی تنہا زندگی گزارنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں بار بار یہ سوال سامنے آتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ رہنے کا کامیاب طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ لوگوں کو جھکانے کی کوشش نہ کیجیے بلکہ خود جھک جائیے۔ لوگوں سے لینے کی کوشش نہ کیجیے بلکہ دینے والے بنئے۔ شکایتوں کو مسئلہ نہ بنائیے بلکہ شکایتوں کو بھول جائیے۔ اختلاف کو ٹکراؤ کا موضوع نہ بنائیے بلکہ اختلاف کے باوجود لوگوں کے ساتھ اچھا معاملہ کیجیے۔ کوئی شخص بظاہر آپ کا دشمن نظر آئے تب بھی اس سے نفرت نہ کیجیے۔ یہی دل کو جیتنے کا طریقہ ہے اور جب دل کو جیت لیا جائے تو اس کے بعد کوئی اور چیز جیتنے کے لیے باقی نہیں رہتی۔
