کامیابی کی شرط

کامیابی کا آدھا تعلق اس بات سے ہے کہ آپ اس کے لیے بھر پور کوشش کریں، اور اس کا بقیہ تعلق اس بات سے ہے کہ آپ کوئی ایسا کام نہ کریں جو آپ کی کوشش کو بےنتیجہ کر دینے والا ہو ۔ اس طرح کامیابی ایک ففٹی ففٹی کا معاملہ ہے۔ جو کچھ کرنا ہے اسے کرنا، اور جو کچھ نہیں کرنا ہے اس سے اپنے آپ کو بچائے رکھنا۔

مثال کے طور پر ایک آدمی شہر میں دکان کھولے۔ وہ دکان کو خوب سجائے ۔ یہ دکانداری کے سلسلے میں اس کا مطلوب کام ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ یہ نا مطلوب کام بھی کرے کہ لوگوں سے لین دین میں خیانت کرے، گاہکوں کے ساتھ بد سلوکی کے ساتھ پیش آئے تو اس کی دکان داری ناکام ہو جائے گی۔ اسی طرح ایک شخص ڈاکٹری پڑھ کر مطب کھولے۔ وہ ہر قسم کا سامان اپنے مطب میں رکھے۔ مگر اس کے ساتھ اس کے معاملات اتنے خراب ہوں کہ جو مریض اس کے پاس آئے وہ اس کے خلاف شکایت لے کر واپس جائے۔ ایسا ڈاکٹر اپنے مطب میں کامیاب نہیں ہو گا کیوں کہ اس نے ایک طرف کرنے والا کام کیا مگر دوسری طرف اس نے نہ کرنےوالے کام کو بھی نہیں چھوڑا۔

 اس اصول کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ آدمی کوئی بھی کام کرے اور کسی بھی میدان میں سرگرم ہو ، مگر ان دو گونہ شرطوں کو پورا کرنا اس کے لیے ضروری ہے۔ جو آدمی ایک شرط کو لے اور دوسری کو چھوڑ دے، وہ اسباب کی اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔

 دنیا کی بیشتر ناکامیاں اسی اصول کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہیں۔ یہاں ہر ایک کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے مقصد کے لیے مثبت جد و جہد کرنے کے ساتھ اس کا بھی خصوصی اہتمام کرے کہ وہ اپنے آپ کو کسی مخالف مقصد میں نہ پھنسائے۔ مثلاً ایک شخص اگر اپنی زندگی کی تعمیر کے ساتھ لڑائی جھگڑا نہ چھوڑے تو وہ اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہے گا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion