پازیٹیو سوچ

سوامی وویکانند (وفات1903) کے حالات میں نے پڑھے۔ ان کا ایک واقعہ بہت پسند آیا۔ یہ واقعہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ وہ زندگی کا ایک راز ہے ، وہ اس دنیا میں کامیابی کی کنجی ہے۔

سوامی جی کے ایک مسیحی دوست تھے۔ وہ سوامی جی کو بہت مانتے تھے۔ ایک بار انھوں نے سوامی جی کا ٹیسٹ لینا چاہا۔ انھوں نے سوامی جی کو اپنے گھر پر کھانے کے لیے     بلایا۔ سوامی جی جب ان کے یہاں پہنچے تو ان کو ایک کمرہ میں بٹھایا گیا۔ اس کمرہ میں ایک میز تھی اس میز کے اوپر بہت سی مذہبی کتابیں ایک کے اوپر ایک رکھی ہوئی تھیں۔ سب سے نیچے گیتا تھی جو ہندو دھرم کی مقدس کتاب ہے اور اس کے اوپر دوسرے مذہبوں کی کتابیں۔

سوامی جی جب کمرے میں پہنچے تو ان کے میزبان نے کہا کہ سوامی جی اس کو دیکھیے   اس پر آپ کا تبصرہ کیا ہے۔ ایک صورت یہ تھی کہ اس کو دیکھ کر سوامی جی بھڑک اٹھیں۔ وہ کہیں کہ میرے مذہب کی کتاب کو سب سے نیچے رکھ کر تم نے میرے مذہب کی بے عزتی کی ہے۔ کیا تم نے مجھے اسی توہین کے لیے بلایا تھا۔ اس کے بعد مہمان اور میزبان دونوں ایک دوسرے سے لڑجاتے۔

لیکن سوامی جی نے ایسا نہیں کیا۔ وہ کتاب کے منظر کو دیکھ کر مسکرائے اور آہستگی کے ساتھ اپنے میزبان سے کہا— فاؤنڈیشن تو بہت اچھی ہے :

The foundation is really good.

سوامی وویکانند کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ انھوں نے منفی واقعے کو مثبت واقعے میں ڈھال لیا۔ ایک بات جو بظاہر نا خوشگوار تھی اس کو انھوں نے خوشگوار صورت دے دی۔

 یہی موجودہ دنیا میں زندگی کا راز ہے یہاں پھول کے ساتھ کانٹے بھی ہیں۔ یہاں اچھے انسانوں کے ساتھ برے انسان بھی ہیں۔ اس لیے یہاں بار بار آدمی کو کڑوا بول سننا پڑتا ہے۔ یہاں آدمی کو نفرت کا تجربہ پیش آتا ہے۔ دوسروں کی طرف سے اس کو بے عزت کیا جاتا ہے۔

ایسے حالات میں موجودہ دنیا میں کامیابی کا راز صرف یہ ہے کہ آدمی پھول کے ساتھ کانٹوں سے بھی نباہ کرنا جانتا ہو، وہ نفرت کرنے والوں سے بھی محبت کر سکے، وہ اپنے خلاف باتوں میں بھی ایسے پہلو تلاش کرلے جو اس کے لیے موافق اور مفید ہوں۔

میری زندگی کا تجربہ ہے کہ انسان پتھر نہیں ہوتا۔ ہر انسان کے سینہ میں وہی نرم دل ہوتا ہے جو کسی دوسرے انسان کے سینہ میں ہے۔ اس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر انسان انسان ہے، کوئی بھی انسان پیدائشی طور پر بھیڑیا نہیں۔

 اگر کوئی آدمی کسی وجہ سے کڑوا بول بولے تو آپ اس کے لفظ کو نہ دیکھیے، آپ اس کے سینہ میں چھپے ہوئے نرم دل کو دیکھیے۔ آپ اس کے کڑوے بول کا اثر نہ لیتے ہوئے اس سے میٹھا بول بولیے۔ وہ آپ کو کا نٹادے تو آپ اس کو پھول کا تحفہ پیش کیجیے  ۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ وہی انسان جو بظاہر آپ کا دشمن دکھائی دے رہا تھا، وہ آپ کا دوست بن جائے گا۔

یہ تجربہ ہے کہ جب آدمی کے ساتھ کوئی پسند کے خلاف بات پیش آئے اور اس کو سن کر وہ غصہ ہو جائے تو اس کا اثر اس کی اپنی سوجھ بوجھ پر پڑتا ہے۔ اس کی عقل ٹھیک طور پر کام نہیں کر پاتی۔ اس کی وجہ سے وہ دوسروں کی بات کا زیادہ اچھا جواب نہیں دے پاتا۔

اگر آپ غصہ کی بات پر غصہ نہ ہوں تو اس کا سب سے پہلا فائدہ خود آپ کو ملتا ہے۔ آپ کی عقل نارمل رہتی ہے۔ آپ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ کسی بات کا زیادہ اچھا جواب دے سکیں۔ جو آدمی غصہ میں بھڑک اٹھے وہ صرف پتھر پھینک سکتا ہے۔ مگر جو آدمی اپنے آپ کو غصہ سے بچائے وہ دلیل کی زبان میں بولے گا، اور دلیل کی زبان پتھر کی زبان سے ہزار گنا زیادہ طاقتورہے۔

مثبت ذہن کا آدمی اپنے پورے امکانات کے ساتھ جیتا ہے اور منفی ذہن کا آدمی صرف اپنے ادھورے امکانات کے ساتھ ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion