پودے کی مثال
فطرت کی دنیا میں جو نمونے قائم کیے گئے ہیں ان میں سے ایک نمونہ پودے کا نمونہ ہے۔ میدان میں ایک پودا اگتا ہے۔ وہ اپنے نرم تنا پر کھڑا ہوا ہے۔ ہواؤں کے جھونکے اس کے پاس سے گزرتے ہیں مگر پودا کیا کرتا ہے۔ پودا یہ کرتا ہے کہ پچھّم کی طرف سے ہوا آئی تو وہ پورب کی طرف جھک گیا اور جب ہوا گزر گئی تو وہ دوبارہ اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا۔ اس طرح اگر پورب کی طرف سے ہوا کا جھونکا آیا تو وہ پچھّم کی طرف جھک گیا اور جب ہو اگزر گئی تو دوبارہ وہ پہلے کی طرح کھڑا ہو گیا۔
نرم پودا ایسا نہیں کرتا کہ وہ ہوا کے مقابلے میں اکڑ دکھائے ۔ اگر وہ اکڑدکھانے لگے اور جھکنے سے انکار کر دے تو اس کا نقصان ہوا کو نہیں پہنچے گا بلکہ خود پودا اپنی اکڑکا شکار ہو جائے گا۔ ہوابدستور فضاؤں میں چلتی رہے گی جب کہ پودا اپنی اکڑکی بنیاد پر ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہو جائے گا۔
یہ پودے کی مثال کی صورت میں فطرت کا ایک سبق ہے جو انسان کو دیا جارہا ہے۔ اس مثال کے ذریعہ انسان کو بتایا جارہا ہے کہ تم جس دنیا میں ہو وہاں ہواؤں کے جھونکے ہیں اور طوفانوں کے تھپیڑے۔ اس کے مقابلے میں تم بہت کمزور ہو۔ تمہیں ان جھونکوں اور ان تھپیڑوں کے مقابلے میں نرمی اور موافقت کا طریقہ اختیار کرنا ہو گا۔ تمہاری روش یہ ہونی چاہیے کہ اپنی اصل انسانی حیثیت کو باقی رکھتے ہوئے وقتی طور پر حالات سے ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کرو۔ سختی کے ساتھ نرمی کو بھی اپنی زندگی کا ایک اصول بناؤ۔
ہوا کے مقابلے میں پودے کا جھکنا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اپنی نشو نما کے عمل کو برابر جاری رکھے ، یہاں تک کہ وہ پورا درخت بن جائے اسی طرح انسان جب نرمی اور ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کے سفر میں کوئی ٹھہر اؤنہ آئے۔ اس کا سفرمسلسل جاری رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جائے۔
