بد خواہی نہیں
کوئی بھی شخص اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ اپنا براکیے بغیر دوسرے کا بر ا کر سکے— ہر برائی سب سے پہلےاپنے لیے برائی ہے۔اس کے بعد ہی وہ کسی دوسرے کے لیے برائی بن سکتی ہے۔
آپ کسی کی ترقی کوروکنا چاہیں تو سب سے پہلے اپنے اندر حسد پیدا کرنا ہوگا۔اپنے اندر حسد کی آگ بھڑکانے کے بعدہی آپ دوسرے کی ترقی کے خلاف کوئی سازش کرسکتے ہیں۔ آپ کسی کو مارنا چاہیں تو سب سے پہلے اپنے سینہ کو تخریب کاری کا اڈا بنانا پڑے گا۔اس کے بعد ہی آپ کسی کو اپنے تخریبی منصوبہ کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔
اس دنیا میں سب سے بڑی برائی دوسرے کا برا چاہنا ہے۔کیوں کہ آپ خواہ دوسرے کا برا نہ کر سکیں،مگر اپنا برا یقیناً کر لیتے ہیں۔دوسرے کو تباہ کرنا کسی آدمی کے اختیا ر میں نہیں۔ مگر جب کوئی شخص کسی دوسرے کی تباہی کا نقشہ بناتا ہےتو اپنے آپ کو یقیناًتباہ کرلیتا ہے۔
اگر آپ کسی دوسرے کو نقصان پہنچانا چاہیں تو یہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ آپ دوسرے کے خلاف سوچیں۔ اس کے خلاف نقصان کی تدبیریں کریں ۔اپنی کوششوں کو منفی رخ پر چلانا شروع کردیں ۔یہ تمام چیزیں اپنی تباہی کا سامان ہیں۔یہ دوسرے کی بدخواہی کی خاطر خود اپنی ذات کا بد خواہ بنناہے۔
اگر آپ دوسرے کے خلاف اپنے اقدام میں کامیاب ہوجائیں تب بھی دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لیے آپ خود اپنے جان و مال کا بہت سا نقصان کرتے ہیں۔دوسرے کو زخم پہنچانے کی کو شش میں خود اپنے آپ کو بھی زخمی کر چکے ہوتے ہیں ۔پھر ایسی کارروائی سے کیا فائدہ۔
دوسرے کی بد خواہی صرف دوسرے کی بد خواہی نہیں،اس کے ساتھ وہ خود اپنی بدخواہی بھی ہے۔آدمی کو چاہیے کہ اگر وہ دوسرے کا خیر خواہ نہیں بن سکتا تو اپنی ذات کا خیر خواہ بنے۔وہ دوسرے کو دینا نہیں چاہتا تو کم از کم اپنے آپ کو محروم نہ کرے ۔وہ دوسرے کے لیے جینا نہیں چاہتا تو اپنے آپ کے لیے جیے۔
