اتحاد یا بھیڑ
شائستہ اکرام اللہ (عمر75 سال) مسٹر محمد علی جناح کی گہری عقیدت مندوں میں سے ہیں۔ انھوں نے ان کے تحت کام کیا ہے ۔ وہ 1947سے 1954تک پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کی ممبر رہی ہیں۔ 1964 سے 1967 تک وہ مرا کو میں پاکستان کی سفیر تھیں، وغیرہ۔
ریڈرس ڈائجسٹ (مئی 1991) میں ان کا ایک مضمون مسٹر محمد علی جناح کے بارے میں چھپا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے مسٹر جناح سے متعلق مختلف یادداشتیں نقل کی ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ابتداء ً ہندستان کے مسلمان مسلم لیگ کے ساتھ نہ تھے۔ مگر مسٹر جناح کی قیادت کا یہ کرشمہ تھا کہ 1945-46 کا الکشن ہوا تو ہندستانی ریاستوں میں 85فی صد مسلم سیٹوں پر مسلم لیگ کا قبضہ ہو گیا۔
انھوں نے لکھا ہے کہ قائد (مسٹر جناح) یہ کہا کرتے تھے کہ انھوں نے ایک بھیڑ کو ایک قوم کی صورت دی ہے ۔ آج پاکستان کے داخلی جھگڑوں کو دیکھتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم دوبارہ بھیڑ کی حالت کی طرف واپس چلے گئے ہیں :
The Quaid (Mr. Jinnah) used to say that he had fashioned a nation out of a mob. Today, seeing all our internal squabbles, I sometimes think that we have gone back to being a mob.
لوگ اکثر غلطی کرتے ہیں کہ وہ جلسہ گاہ میں لوگوں کے جمع ہونے کو اتحاد سمجھ لیتے ہیں۔ حالاں کہ موجودہ قسم کے جلسے حقیقاً بھیڑ کی وقتی یکجائی کے ہم معنٰی ہیں۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ بھیڑ کا ایک متحد قوم بننا جلسہ جلوس سے بالکل علحدہٰ چیز ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان مثبت سطح پر یکساں سوچ آجائے، ان کے اندر مستحکم کردار پیدا ہو جائے ۔ وہ اختلاف کو نظر انداز کرتے ہوئے دوسروں کا ساتھ دینے پر راضی ہوں۔ ان کے اندر یہ مزاج پیدا ہو جائے کہ ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر بلند تر انسانی مقاصد کے لیے جینے لگیں — اتحاد وہ ہے جو روزانہ کی حقیقی زندگی میں دکھائی دے، نہ کہ وقتی قسم کے جلسہ اور جلوس میں ۔
