محبت فاتح عالم

ایک انسانی مجسمہ کے سامنے کھڑے ہو کر آپ اس کو سخت الفاظ میں خطاب کریں یا اس کے سامنے محبت کے الفاظ بولیں، دونوں حالتوں میں وہ کوئی ردّ عمل ظاہر نہیں کرے گا۔ وہ نہ آپ کی سخت کلامی پر برہم ہو گا اور نہ آپ کی نرم کلامی پر خوشی کا اظہار کرے گا۔ مگر ایک زندہ انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ سخت کلامی پر غصہ ہوتا ہے اور میٹھے بول کو سن کر نرم پڑ جاتا ہے۔

سماجی زندگی کے بیشتر واقعات اسی انسانی صفت کا اظہار ہیں۔ جب آپ ایک آدمی کے ساتھ سخت کلامی کرتے ہیں تو وہ آپ کا دشمن بن جاتا ہے۔ وہ آپ کے خلاف انتقام کا منصوبہ بناتا ہے۔ لیکن اسی آدمی سے محبت کے انداز میں بات کیجیے تو وہ آپ کا دوست بن جائے گا۔ ایک قسم کا کلام لوگوں کو آپ سے دور کر دینے والا ہے اور دوسری قسم کا کلام لوگوں کو آپ سے قریب کر دینے والا۔

سماجی زندگی کو کامیاب بنانے کا یہ سب سے زیادہ آزمایا ہوا نسخہ ہے۔ اگر آپ سماج کے اندر با عزت زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کے خلاف رکاوٹ نہ بنیں بلکہ وہ آپ کے مددگار بن جائیں تو صرف ایک اصول کو اپنی زندگی میں اختیار کر لیجیے  وہ ہر ایک کے ساتھ نرمی اور محبت کے ساتھ پیش آنا۔

یہ اصول تباہ کن حد تک غلط ہے کہ— نرمی کرنے والوں کے ساتھ نرمی اور سختی کرنے والوں کے ساتھ سختی۔ اس کے بر عکس، صحیح اصول یہ ہے کہ نرمی کرنے والوں کے ساتھ بھی نرمی اور جو لوگ سختی کریں ان کے ساتھ بھی نرمی۔ اگر کوئی شخص کسی وجہ سے آپ کے خلاف بر ہم ہو جائے تو آپ اس کے ساتھ جوابی برہمی نہ دکھائیں۔ بلکہ اس کے برے سلوک کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ اس کے کڑوے بول کا جواب میٹھے بول سے دیں۔ اگر وہ آپ کو نقصان پہنچائے تب بھی آپ اس کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ جو آدمی بظاہر آپ کا دشمن دکھائی دیتا تھا، وہ آپ کا قریبی دوست بن گیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion