شرافت کی طاقت
سابق وائس پریسیڈنٹ آف انڈیا محمد ہدایت اللہ صاحب (1992-1905) کا ایک واقعہ ہے۔ یہ واقعہ ان کے پی اے مسٹر اطہر صدیقی ایم اے نے مجھے بتایا۔ انھوں نے بتایاکہ ایک بار پنجاب کے سکھ پیشواؤں کا ایک وفد ہدایت اللہ صاحب سے ملنے کے لیے نئی دہلی آیا۔ وہ لوگ اپنی روایات کے مطابق، کر پان لگائے ہوئے تھے ۔ وائس پریسیڈنٹ کی سرکاری رہائش گاہ پر سیکوریٹی کے جو لوگ تھے ، انھوں نے سکھوں سے کہا کہ آپ لوگ اپنی یہ کر پانیں باہر ہمارے پاس رکھ دیں۔ اس کے بعد وائس پریسیڈنٹ سے ملنے کے لیے اندر جائیں۔ وہ لوگ اپنی کر پا نیں باہر چھوڑنےپر آمادہ نہیں ہوئے ۔
اب بات بڑھی۔ سیکوریٹی افسر نے ٹیلی فون کے ذریعہ وائس پریسیڈنٹ کے سکریٹری سے رابطہ قائم کیا اور صورت حال بتائی ۔سکریٹری نے آرڈر دے دیا کہ انھیں کرپانوں کے ساتھ اندرمت جانے دو، اور اگر وہ اس طرح اندر جانے پر اصرار کریں تو ان کو گرفتار کرلو۔
اطہر صدیقی صاحب نے بتایا کہ میں نے موقع کی نزاکت کو محسوس کیا۔ چنانچہ میں فوراً اندر گیا اور ہدایت اللہ صاحب سے مل کر انھیں بتایا کہ یہاں اس قسم کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ اور سیکوریٹی افسراور سکریٹری کا رویہ سراسرحکمت کے خلاف ہے۔ آپ ملٹری افسر سے براہ ِراست کہہ دیں کہ وہ ان لوگوں کو نہ روکیں اور انھیں کرپانوں کے ساتھ اندر آنے دیں۔ ہدایت اللہ صاحب معاملے کی نزاکت کو سمجھ گئے۔ اور اس کے مطابق ٹیلی فون پر سیکوریٹی افسر کو ہدایت دے دی۔
اس کے بعد سکھ وفد اپنی کرپانوں کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ ہدایت اللہ صاحب کے سامنے پہنچتے ہی انھوں نے اپنی کر پانوں کو اتار کر ہدایت اللہ صاحب کے قدموں میں رکھ دیا۔ انھوں نے کہا کہ کیا ہم کمینہ پن کریں گے کہ یہاں آکر آپ کے اوپر ان کرپانوں سے حملہ کر دیں۔ آپ ہمارے لیے باپ کےبرابر ہیں۔ ہم تو ایسا کبھی سوچ بھی نہیں سکتے ۔
حکمت سب سے بڑی طاقت ہے ۔ اگر آپ حکمت کا طریقہ اختیار کر یں تو مسلّح دشمن بھی اپنے ہتھیاروں کو پھینک دے گا اور آپ کی انسانیت کے اعتراف میں آپ کے قدموں پر گر جائے گا۔
