شعور نہ کہ نظام
موجودہ زمانے میں جاپان کی غیر معمولی ترقی ایک تسلیم شدہ حقیقت بن چکی ہے ۔ جاپان نے یہ ترقی احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ حاصل نہیں کی ۔ بلکہ اپنے افراد کے اندر شعور پیدا کر کے حاصل کی ہے۔ جاپانی امور کے ایک ماہر رابرٹ ہیز(Robert Hayes)نے لکھا ہے کہ جاپان نے اپنے افراد کے لیے معیار کو ایک طرز فکر(Way of thinking)بنا دیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے یہ الفاظ لکھے ہیں:
You don't get quality into a product by inspection, you have to build it in.
معیاری پیداوار کو آپ انسپکٹروں کی جانچ کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکتے۔ آپ کو ہر ایک کارکن کے اندر اس کا احساس پیدا کرنا ہوگا (ہندوستان ٹائمس 28 دسمبر 1986، صفحہ9)۔
امریکہ نے دوسری عالمی جنگ میں اور اس کے بعد جاپان کے ساتھ جو کچھ کیا تھا، اس کے مطابق امریکہ جاپان کے لیے دشمن نمبر ایک کی حیثیت رکھتا تھا۔ جاپان نے جنگ کے بعد جو اپنی تعمیر نو شروع کی تو پہلا کام یہ کیا کہ اپنے افراد کو منفی طرز فکر سے پاک کیا۔ اس نے نفرت اور انتقام کے احساسات سے اوپر اٹھ کر امریکیوں سے معاملہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان اس سے بچ گیا کہ وہ اپنی طاقت کو غیر ضروری قسم کی منفی کارروائیوں میں صرف کرے۔ منفی نفسیات سے اوپر اٹھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے خود اپنے دشمن کو اپنی خوراک بنالیا۔
امریکہ کی بیل لیبارٹریز (Bell Laboratories) نے سب سے پہلے ٹرانسسٹر ایجاد کیا تھا۔ جاپانی اگر امریکہ کے خلاف نفرت کے جذبات اپنے سینہ میں لیے ہوئے ہوتے تو وہ امریکہ سے کچھ سیکھ نہیں سکتے تھے ۔ مگر ان کے مثبت طرزفکر کا یہ نتیجہ ہوا کہ انھوں نے فوراً اس ایجاد کو پکڑ لیا۔ قبل اس کے کہ بیل لیبارٹریز ٹرانسسٹر بنائے جاپانیوں نے بہت بڑی مقدار میں ٹرانسسٹر بنا کر عالمی مارکیٹ پر قبضہ کر لیا۔ اسی طرح فیکس کی تکنیک امریکہ میں دریافت ہوئی۔ مگر جاپان نے سب سے پہلے اس کا تجارتی فائدہ حاصل کیا۔
