راہیں بند نہیں
روشنی اس کا ئنات کی سب سے تیز مسافر ہے۔ وہ ایک سکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل سے اوپر تک سفر کر لیتی ہے۔ مگر روشنی ہمیشہ ایک ہی رخ پر چلتی ہے۔ سورج کی کرنیں اگر آپ کے کمرہ کی کھڑکی کی طرف سے آرہی ہوں اور کھڑکی بند ہو تو کرنیں ایسا نہیں کرسکتیں کہ مڑ کر دروازہ کے راستہ سے داخل ہو جائیں۔ وہ کھڑکی سے ٹکرا کر پڑی رہیں گی اور کوئی دوسرا راستہ اختیار نہیں کریں گی۔
پانی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ ایک طرف راستہ بند دیکھتا ہے تو دوسری طرف سے اپنا نکاس پیدا کر لیتا ہے۔ اگر آپ کسی پہاڑ کے اوپر کھڑے ہوں اور وہاں سے ایک ایسے چشمہ کا مشاہدہ کریں جو اوپر سے نیچے کی طرف بہہ رہا ہو، تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو نظر آئے کہ چشمہ جدھر بہہ کر جا رہا ہے اس کے عین آگے افقی دائرے میں پھیلی ہوئی ایک چٹان ہے۔ بظاہر آپ کو خیال آسکتا ہے کہ یہ بڑی چٹان چشمہ کا راستہ روک دے گی۔ مگر بہت جلد آپ کا یہ شبہ ختم ہو جائے گا۔ جب آپ دیکھیں گے کہ چٹان کے پاس پہنچ کر پانی اپنے دائیں بائیں مڑنے لگا۔ یہاں تک کہ چٹان کے دونوں کناروں کو پار کر کے وہ آگے کی طرف نکل گیا۔
انسان کی مثال اس معاملے میں روشنی کی نہیں، پانی کی ہے۔ انسان کا ارادہ ایک ایسا سیلاب ہے جس کو کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ زندگی کے سفر میں کوئی ایسا مقام نہیں جہاں حقیقتاًانسان کا راستہ رکتا ہو۔ جہاں ایک راستہ بظاہر بند نظر آئے۔ وہاں دوسرے بہت سے راستے کھلے ہوئے ہوں گے۔ ایک نادان آدمی بلا شبہ یہ کر سکتا ہے کہ سامنے کا راستہ بند دیکھ کر مایوس ہو جائے یا اس سے ٹکر اکر اپنی جان دے دے۔ لیکن اگر آپ اپنی آنکھوں سے کام لیں اور عقل سے سوچ کر صورت حال سے نپٹنے کا جذبہ آپ کے اندر ہو تو کبھی آپ اس حادثہ سے دوچار نہیں ہو سکتے کہ آپ کا راستہ آپ کو بند نظر آئے۔
