7دسمبر 1993کی صبح کو رشی کیش میں فجر کی نماز اول وقت پڑھی۔ اس کے بعد سوامی چیدانند سے رخصتی ملاقات کرنے کے لیے ان کے دفتر میں گیا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ کانفرنس کے بہت سے مرد اور عورت وہاں چلے آ رہے ہیں۔ سوامی جی نے بتایا کہ ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ آج آپ جا رہے ہیں تو وہ آپ سے ملنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔ یہ زیادہ تر یورپ کے ملکوں سے تعلق رکھتے تھے۔چنانچہ انگریزی میں تقریباً10 منٹ تک ان کے سامنے خطاب کیا۔

میں نے کہا کہ آپ لوگ یہاں روحانی اتحاد کے عنوان پر جمع ہوئے ہیں۔ اس نسبت سے چند باتیں میں قرآن کے حوالے سے کہوں گا۔ قرآن میں یہ تصور دیا گیا ہے کہ تمام انسان ایک ہی صحیح فطرت پر پیدا کیے جاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف، جھگڑے، غلط فہمیاں یہ سب چیزیں انسانی شخصیت کا اصل حصہ نہیں ہیں، یہ سب اوپری چیزیں ہیں۔ جہالت، حرص، تعصب، کینہ وغیرہ ان کے اسباب ہیں۔ یہ سب چیزیں وقتی طور پر آدمی کی فطرت کو ڈھک لیتی ہیں۔ اگر ان کو ہٹا دیا جائے تو اندر کی یکساں فطرت بے نقاب ہو کر سامنے آ جائے گی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ روحانی اتحاد تو اپنے آپ سارے انسانوں کے درمیان موجود ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اوپر کے پردوں کو ہٹا دیا جائے۔ پردہ ہٹنے کے بعد جو چیز حاصل ہوگی وہ وہی ہوگا جس کو ہم روحانی اتحاد کہتے ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion