اندور، مدھیہ پردیش کے سفر (مئی 1993ء)میں اندور یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں میرے لیے رکنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ گیسٹ ہاؤس کے کمرہ میں ’’مدھیہ پردیش شاسن‘‘ کا ہندی کا کیلنڈر لٹکا ہوا تھا۔ اس کے ہر صفحہ پر دو تاریخیں درج تھیں۔ کھلے ہوئے صفحہ پر ایک طرف ’’مئی 1993ء ‘‘ لکھا ہوا تھا۔ اور دوسری طرف ’’ویشاکھ۔ جیٹھ 1915‘‘ درج تھا۔ یہ کیلنڈر اگر کسی مسلم ادارہ نے چھاپا ہوتا تو اس پر’’ مئی 1993ء ‘‘کے ساتھ ’’ذی الحجہ 1413 ھ‘‘ چھپا ہوا ہوتا۔
میں نے سوچا کہ اسی قسم کے اختلافات ہیں جن کو بڑھا کر دو قومی نظریہ کا پرچار کیا گیا۔ اور ملک کا بٹوارہ کرایا گیا۔ اور اب دوبارہ اسی قسم کے اختلافات ہیں جن کو لے کر ہمارے لیڈر باہمی نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔ حالاں کہ یہ فرق یا اختلاف کسی انسان کے گھڑے ہوئے نہیں۔ وہ فطرت کے نقشۂ تخلیق پر مبنی ہیں جن کو نہ انسان نے بنایا اور نہ وہ ان کو بنانے پر قادر ہے۔ مثلاً اگر فطرت کے نظام میں یہ نہ ہوتا کہ سورج کی گردش کا اصول الگ ہے اور چاند کی گردش کا اصول الگ۔ اگر خود فطرت میں یہ فرق نہ ہوتا تو ایک سے زیادہ کیلنڈر بھی نہیں بن سکتے تھے۔ اس اختلاف کو تنوع سمجھ کر قبول کرنا چاہیے، نہ کہ اس کو دو انسانی گروہوں میں ٹکراؤکا اشو بنایا جائے۔
