ثالثی کا اُصول

خاندانی زندگی میں نزاعات پیدا ہوتے ہیں‌۔ اس کے حل کا ایک فطری اصول قرآن میں بتا یا گیا ہے۔ قرآن کا یہ اصول اس آیت میں ملتا ہے:

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقاقَ بَيْنِهِما فَابْعَثُوا حَكَماً مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَماً مِنْ أَهْلِها إِنْ يُرِيدا إِصْلاحاً يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُما إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلِيماً خَبِيراً(4:35)۔یعنی، اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان تعلقات بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ایک حکَم‌مرد کے رشتہ داروں میں سے کھڑا کر و اور ایک حکَم‌عورت کے رشتہ داروں میں سے کھڑا کرو۔ اگر دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ‌ا‌ن کے درمیان موافقت کر دے گا۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے وا لا خبردار ہے۔

حَکَم(ثالثی)کا یہ اُ‌صول نزاعات کے حل کے لیے بے حد مفید ہے۔ دو آدمیوں میں جب باہمی اختلاف ہو تو دونوں کا ذہن ایک دوسرے کے بارے میں متاثر ذہن بن جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں خالص واقعاتی انداز سے سوچ نہیں پاتے۔ ایسی حالت میں معاملہ کو طے کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ دونوں اپنے سوا کسی دوسرے کو حکَم(arbiter)بنانے پر راضی ہو جائیں‌۔ دوسرا شخص معاملہ سے ذاتی طور پر وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے گا اور ایسے فیصلہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گا جوحقیقتِ‌واقعہ کے مطابق ہو۔

خالق نے اپنے تخلیقی منصوبہ کے مطابق، ہر دو انسان کے درمیان فرق رکھا ہے۔ اس مسئلہ کا حل فرق کو مٹانا نہیں ہے بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ انسان اس ہنر کو جانے جس کو آرٹ آف ڈیفرنس مینجمنٹ (art of difference management) کہا جاسکتا ہے۔ ڈیفرنس کو مٹانے کی کوشش نہ کیجیے بلکہ ڈیفرنس کے ساتھ جینا سیکھیے اور پھر آپ کی زندگی کامیاب ازدواجی زندگی بن جائے گی۔خاندانی زندگی ہویا سماجی زندگی، دونوں میں اختلافات پیدا ہونا فطری ہے۔ اس مسئلہ کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے— اختلاف کے باوجود متحد ہوکر رہنا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion