5مئی 2008
آج کشمیر کے ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا ۔ انھوں نےاپنا نام عبد الرحمٰن بتایا۔ انھوں نےکہا کہ امت میں اتفاق نہیں ، آپ لوگ جو قوم کے رہنماہیں ، اسٹیج پر کیوں نہیں جمع ہوتے ۔ آپ لوگوں کو چاہیے کہ ایک اسٹیج پر آکر اور ایک آواز کی صورت میںسب کو اتفاق کی تلقین کریں۔
میں نےکہاکہ علما اور رہنمائوں کا ایک اسٹیج پر آنا، قوم کے اندر اتفاق پیدا نہیں کرسکتا۔ ہمارے علما اور رہنما بار بار ایک اسٹیج پر اکٹھا ہوئےہیں ۔ مثلاً آزادی سےپہلے تمام لوگ آل انڈیا مسلم لیگ کے اسٹیج پر اکٹھا ہوئےہیں، مگر آج پاکستان میں علما اور رہنما آپس میں لڑ رہے ہیں ۔ آزادی کے بعد آل انڈیامسلم مجلس مشاورت بنی ۔ اُس میں بھی علما اور رہنما ایک اسٹیج پر اکٹھا ہوئے۔ اس کے بعد آپس میںلڑ کر الگ الگ ہو گئے ۔ اس کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبنا۔اس میں بھی علما اور رہنما ایک اسٹیج پر اکٹھا ہوئے ، مگر اس کے ذریعے قوم میں اتفا ق نہ آسکا، وغیرہ ۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ اتفاق کی اپیل کا نہیں ہے ۔اتفاق کی اپیل تو ہزاروں بار کی جا چکی ہے ۔ اصل چیز یہ ہے کہ لوگوں کو اتفاق کا فارمولا معلوم نہیں۔ وہ فارمولا ہے — اختلاف کے باوجود متحد ہونا۔ اتحاد قائم ہوتا ہے اختلاف کو برداشت کرنے سے ، نہ کہ اختلاف کو مٹانے سے۔
