اختلاف کا مسئلہ
دور جدید میں جن مثبت باتوں کا آغاز ہوا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اب بذریعہ تلوار اختلاف کو دور کرنے کا زمانہ ختم ہوچکاہے ، اور رائے کے اختلاف (dissent) کو رائے تک محدود رکھ کر نزاع (conflict) کو ختم کرنے کے دور کاآغاز ہوا ہے۔قدیم زمانے میں جب اختلاف پیدا ہوتا تھا تواس کا خاتمہ صرف تلوار کے ذریعے ہوا کرتا تھا۔ قدیم عرب کا یہ محاورہ اسی حقیقت کی ترجمانی ہے— القَتْلُ اَنْفَی لِلْقَتْلِ (قتل، قتل کے لیے سب سےبڑاروک ہے)۔ مگر اب یہ فریم ورک (framework)بدل چکا ہے۔
موجودہ دور میں اختلاف کے خاتمہ کا سپورٹنگ اسٹرکچر (supporting structure) بدل گیا ہے۔ اب عمومی تباہی کے ہتھیاروں (weapons of mass destruction) نے دونوں فریقوں کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ دونوں فریق اختلاف کا خاتمہ گفتگو کی میز پر کریں۔دو عالمی جنگ خصوصاً جاپان کی تباہی نے تمام دنیا کو اس سے روک دیا ہے کہ وہ اختلاف کا خاتمہ بذریعہ جنگ کریں:
Weapons of Mass Destruction (WMD) do serve as a deterrent to a global conflict. The destructive capabilities of the WMD were on full display over Japan at the end of World War II, and no one wants to go through something like that again.
اختلاف بذریعہ جنگ کا دوراب ختم ہوگیا ہے، اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ انسان کو’’تلوار‘‘کی بنیاد پر فیصلےکا بدل مل گیا ہے، اور وہ ہے ڈسنٹ(dissent)، یعنی اختلافِ رائے کو اعتدال کے دائرے میں رکھنا،اس کونفرت اور نزاع تک نہ پہنچنے دینا۔ انسان کی عقل نے یہ ریلائز (realize) کرلیا ہے کہ اختلافِ رائے کی بنیاد پرپیدا ہونے والے نزاع کوریزن کی سطح پرمینج کیا جاسکتا ہے۔ پہلے زمانے میںحالت یہ تھی کہ اختلاف کو بزور طاقت سختی کے ساتھ دبایا جاتا تھا۔یورپ کے حوالے سے اس کی تفصیل ڈریپر (وفات 1882ء)کی کتاب’’ معرکہ مذہب وسائنس‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے:
History of the Conflict Between Religion and Science, 1875, London, pp. 373
مگر یہ صرف یورپ کا مسئلہ نہیں تھا، ساری دنیا میں یہی طریقہ رائج تھا۔ اس کے برعکس، موجودہ دورمیںبات چیت کی سطح پر اختلاف کا خاتمہ کیاجاتا ہے۔ یہ وہی دور ہے، جس کو ایک حدیثِ رسول میں ’’لا الہ الا اللہ کے ذریعہ قلعہ فتح کرنا‘‘ کہا گیا ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2920)۔ یعنی پیس فل انداز میں ڈائلاگ کے ذریعہ اختلاف کو مینج کرکے مقصد حاصل کرنا۔
