18 اپریل 1983
میں نے ایک عرب عالم کا مضمون پڑھا۔ ان کی یہ بات مجھے پسند آئی کہ اختلاف (difference)برا نہیں، البتہ مخالف(opposition)برا ہے۔ اختلاف ایک طبیعی امر ہے اور وہ اسلام کے دور اول میں ہی موجود تھا ، مگر وہ مخالفت تک نہیں پہنچا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کو بنو قریظہ کی بستیوں کی طرف روانہ کیا تو بتاکید فرمایا کہ تم لوگ بنو قریظہ میں پہنچ کر ہی عصر کی نماز پڑھنا — لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 946)۔ صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے اس حکم کے الفاظ کو لیا اور بنو قریظہ میں پہنچ کر تاخیر کے ساتھ نماز پڑھی۔ کچھ لوگوں نے اس کو معنی پر محمول کیا اور اس کو تیز قدمی(الاسراع لبلوغ الهدف ) کے معنی میں لیتے ہوئے راستہ میں نماز پڑھ لی۔ اور رسول اللہ نے دونوں کی تصدیق فرمائی ۔
یہ واقعہ ( اور اس طرح کے دوسرے واقعات) اس کا کھلا ہوا ثبوت تھے کہ بعض امور میں تنوع ایک فطری امر ہے ، اس لیے ان میں توحّدپیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے۔ مگر بعد کے زمانہ میں لوگ ( خاص طور پر فقہا ) اس حقیقت کو ملحوظ نہ رکھ سکے ، اور امت میں بے شمار خرابیاں پیدا ہوگئیں۔
صحابہ اور تابعین تک یہی صورت حال قائم رہی۔ میرے علم کے مطابق عمر بن عبدالعزیز اس امت میں آخری قابل ذکر شخص تھے جو اس راز کو جانتے تھے:
فَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ القَيِّمِ فِي إِعْلَامِ الْمُوَقِّعِينَ عَنْ سَيِّدِنَا عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُمَا اخْتَلَفَا فِي100مَسْأَلَةٍ، وَذَكَرَ عَدَدٌ مِنَ الْمُؤَلِّفِينَ فِي تَارِيخِ التَّشْرِيعِ الإِسْلَامِي،ّ السايس السبكي البربري، أَنَّ هُنَاكَ عِشْرِينَ مَسْأَلَةً اخْتَلَفَ فِيهَا الصَّحَابَةُ. لَمْ يَسْتَنْكِرْ أَحَدٌ هَذَا الْخِلَافَ، إِنَّمَا اعْتَبَرَهُ الْجَمِيعُ أَمْرًا طَبِيعِيًّا لَا يَقْطَعُ وُدًّا وَلَا يُفَرِّقُ صَفًّا. وَلِهَذَا أَيَّدَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَمَا يَذْكُرُ الشَّاطِبِيُّ فِي الاعْتِصَامِ، وَقَالَ:مَا أُحِبُّ أَنْ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ ﷺ لَا يَخْتَلِفُونَ، لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ قَوْلًا وَاحِدًا لَكَانَ النَّاسُ فِي ضِيقٍ، وَإِنَّهُمْ أَئِمَّةٌ يُقْتَدَى بِهِمْ. فَلَوْ أَخَذَ رَجُلٌ بِقَوْلِ أَحَدِهِمْ لَكَانَ سُنَّةً۔
ابن قیم نے اعلام الموقعین میں لکھا ہے کہ حضرت عمر اورحضرت عبداللہ بن مسعود کے درمیان ایک سو مسائل میں باہم اختلاف تھا ۔ تاریخ تشریع اسلامی نے مصنفین سے 20 مسائل شمار کیے ہیں جن میں صحابہ ایک دوسرے سے مختلف رائے رکھتے تھے ۔ اس اختلاف کو کسی نے بھی برا نہیں مانا ۔ تمام لوگوں نے اس کو طبعی معاملہ سمجھا جس سے نہ باہمی محبت ختم ہوئی اور نہ جماعتی انتشار پیدا ہوا۔ اسی لیے حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس کی تائید فرمائی ہے۔ جیسا کہ شاطبی نے لکھاہے، انھوں نے کہا :مجھے یہ پسند نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اختلاف نہ کرتے ۔ اس لیے کہ اگر صرف ایک ہی قول ہوتا تو لوگ تنگی میں پڑ جاتے۔ اور صحابہ ہی وہ رہنما لوگ ہیں جن کی پیروی کی جاتی ہے ۔ ان کے اختلاف کی وجہ سے یہ ہے کہ آدمی ان کے جس قول کو بھی لے لے وہ سنت ہوگا۔
