5جون1997
دمشق کے مشہور عالم دکتور محمد سعید البوطی(1929-2013) اور دکتور احسان بعد رانی (پیدائش 1947)کے درمیان ایک مباحثہ ہوا۔ دکتور بعد رانی نے کہا کہ فقہ کی تدوین جدید ہونی چاہیے۔ دکتور البوطی نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی یہ فقہ ظاہر ہے کہ قرآن اور سنت ہی سے مستنبط ہوگی اور جب ایسا ہوگا تو وہ محض ایک تکرار ہوگی۔ کیوں کہ قدیم فقہ قرآن و سنت میں سے مستنبط کرکے مدون کی گئی ہے۔ گویا جدید فقہ محض ایک حاصل شدہ چیز کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش ہوگی ۔
میں کہوں گا کہ قدیم فقہ عہد عباسی میں مدون کی گئی۔ یعنی عہدِنبوی،عہدِ خلفائے راشدین، عہد نبی امیہ کے بعد۔ اگر عہد عباسی میں مدون کی جانے والی فقہ وہی تھی جو اسلام کے ابتدائی تین عہدوں میں موجود تھی تو وہ محض تکرار تھی اور اگر تکرارِ اول درست ہو تو تکرارثانی کیوں کر نادرست قرار پائے گی۔ اور اگر قدیم فقہ اس لیے مدون کی گئی کہ عہد عباسی میں اسلامی معاشرہ کو نئے نئے مسائل پیش آگئے تھے۔ تو دورجدید کے مسلم معاشرہ کو اس کے مقام میں ہزارگنا زیادہ نئے مسائل پیش آگئے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر پہلی تبدیلی کے موقع پر فقہ کی ازسرنو تشکیل و تدوین ضروری تھی تو وہ کون سی دلیل ہے جس کی بناپر دوسری تبدیلی کے موقع پر فقہ کی دوبارہ تشکیل وتدوین غیر ضروری ہوگی۔
