21 ستمبر 1983

حج کے ارکان حنابلہ کے نزدیک چار ہیں:الإِحْرَامُ، وَالْوُقُوفُ بِعَرَفَةَ، وَطَوَافُ الْإِفَاضَةِ، وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ۔ شافعیہ کے نزدیک حج کے ارکان پانچ ہیں۔چار مندرجہ بالا اور پانچواں:الحَلْقُ وَالتَّقْصِيرُ۔ احناف کے نزدیک حج کے ارکان صرف دو ہیں: الْوُقُوفُ بِعَرَفَةَ، وَمُعْظَمُ طَوَافِ الْإِفَاضَةِ۔

یہ تو صرف بڑے اختلاف کی مثال ہے۔ ورنہ حج کی تفصیلات ( اور اسی طرح دوسری عبادتوں کی تفصیلات) میں بے شمار اختلافات ہیں، جن کی گنتی کرنا بھی مشکل ہے۔ میرے نزدیک یہ سب غیر ضروری ہے۔ مثلاً مذکورہ فرق کو لیجیے۔ فقہا کے درمیان اگرچہ ارکان ِ حج کی تعداد مقرر کرنے میں اختلاف ہے، تاہم اس میں سب متفق ہیں کہ مذکورہ ارکان میں سے کسی ایک رکن کا ترک بھی حج کو باطل کر دیتا ہے — كُلُّهُمْ مُتَّفِقُونَ عَلَىٰ أَنَّ تَرْكَ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْحَجِّ يُبْطِلُ الْحَجَّ۔ جب حج کی صحیح ادائیگی کے لیے مذکورہ تمام ارکان پر عمل کرنا ضروری ہو تو پھر غیر ضروری فنی بحثیں نکال کر ان کی تعداد میں فرق کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion