23 جون 1986
مجھے اپنی زندگی میں بار بار ایک ہی تجربہ ہوا ہے۔اس تجربہ میں ابھی تک کوئی استثنا ثابت نہ ہو سکا۔ مزید یہ کہ تجربات کی اس لمبی مدت میں اکابر کے نام بھی موجود ہیں اور اصاغر کے نام بھی۔
وہ تجربہ یہ ہے کہ ایک شخص ابتدائی تعلقات میں میرے ساتھ خوش اخلاقی برتتا ہے، وہ بڑے بڑے الفاظ میں میرا اعتراف کرتا ہے، وہ میرے مشن میں بھرپور ساتھ دینے کا اقرار کرتا ہے۔اس کے بعد جب تعلقات بڑھتے ہیں اور کوئی اختلافی بات سامنے آتی ہے یا کسی وجہ سے اس کی انا پر چوٹ لگتی ہے تو اچانک وہی آدمی دوسرا آدمی بن جاتا ہے۔
میری تعریف کرنے والا میری برائی کرنے لگتا ہے۔ میرا ساتھ دینے والا میرا دشمن بن جاتا ہے۔ جو شخص پہلے میرے مقابلے میں خوش اخلاقی کا پیکر تھا، اب وہ میرے مقابلہ میں بداخلاقی کا مجسمہ نظر آنے لگتا ہے۔ حتیٰ کہ میری تخریب کاری اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اخلاق کے اعتبار سے عین اس مقام پر ہیں جہاں پہلے یہود تھے۔معمول کے حالات میں اچھا بنےرہنا اور غیر معمول والے حالات پیدا ہوتے ہی کچھ سے کچھ ہو جانا، یہ یقینی طور پر یہودیت ہے۔ اور یہی یہودیت ہے جس پر آج کے مسلمان قائم ہیں۔
مومن و مسلم وہ ہے جو اللہ سے ڈرے، اور اللہ سے ڈرنے والا آدمی ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ دوستی کے وقت اچھا بنا رہے اور اختلاف کے وقت تخریب کاری کا نمونہ پیش کرے۔
