بمبئی (ممبئی)کے سفر میں ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ’’ہندو تعصب‘‘ کا ذکر کیا۔ میں نے مثال پوچھی تو انھوں نے کہا کہ دیکھیے، بمبئی میں جمعہ کی نماز میں کچھ مسجدوں میں نمازی زیادہ ہو جاتے ہیں تو وہ سڑک پر صف بنا لیتے ہیں۔ اس کو ہندو برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ ہم کو وارننگ دے رہے ہیں کہ سڑک پر نماز پڑھنا بند کر دو، ورنہ — میں نے کہا کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اختلاف اور دشمنی کے وقت بھی انصاف سے کام لو۔ اس لیے اس معاملہ میں آپ لوگوں کو انصاف والی بات کہنا چاہیے۔ پھر میں نے کہا کہ اسی ملک میں پچاس سال سے یہ ہو رہا ہے کہ ٹرین میں سفر کرتے ہوئے مسلمان جب نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو ہندو مسافر کھڑے ہو کر جگہ خالی کر دیتے ہیں تاکہ مسلمان سہولت کے ساتھ نماز پڑھ سکیں۔ اگر آپ کو اس میں شبہ ہو تو تبلیغی جماعت کے کسی بھی آدمی سے پوچھ لیجیے۔
اب سوچئے کہ وہی ہندو جو روزانہ ٹرین میں نماز پڑھنے کے لیے جگہ خالی کر دیتا ہے وہی سڑک پر نماز پڑھنے کو کیوں ناپسند کر رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹرین میں آپ کو نماز کی جگہ دینے سے اس کا سفر بھنگ نہیں ہوتا۔ جب کہ سڑک پر آپ کی نماز سے اس کا سفر بھنگ ہوتا ہے۔ سڑک سے سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو سڑک کے اِدھر اور اُدھر اس وقت تک رکے رہنا پڑتا ہے جب تک آپ نماز ختم کرکے سڑک کو خالی نہ کر دیں۔ اس لیے آپ یوں کہیے کہ جو نماز ہندو کی زندگی میں خلل نہ ڈالے اس کا وہ سواگت کرتا ہے، البتہ وہ اس نماز کا مخالف ہے جس سے اس کی زندگی میں خلل واقع ہوتا ہو۔
