9مئی1997
مولانا محمد منظور نعمانی (لکھنؤ)92سال کی عمر میں5مئی1997کو انتقال کرگئے۔ مجھے ان کے افکار ونظریات سے مناسبت نہیں تھی۔ مگر ان کی شخصیت میں ذاتی تجربہ کے تحت میں نے ایک ایسی خوبی پائی جو کسی اور عالم میں مجھے نہیں ملی۔ 15اپریل1967میں لکھنؤ کی مسجد(کچہری روڈ)میں ان سے میری ایک سخت اختلافی گفتگو ہوگئی۔ اس زمانہ میں مولانا منظورنعمانی(1905-1997)، مولانا ابو الحسن علی ندوی (1913-1999)، ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی (1913-1974) جو مسلم سیاست چلارہے تھے اس سے مجھے سخت اختلاف تھا۔ میں نے ڈھائی گھنٹہ تک اس پالیسی پر تنقیدی گفتگو کی مگر وہ اپنی رائے پر قائم رہے۔ آخر کار میں اٹھا۔ میرا حال یہ تھا کہ میں رورہا تھا۔ میں نے ان کو رخصتی سلام نہیں کیا۔ صرف یہ شعر پڑھ کر باہر نکل آیا:
إِذَا كَانَ الْغُرَابُ رَئِيسَ قَوْمٍ سَيَهْدِيهِمْ إِلَى دَارِ الْبَوَارِ
اس سخت تنقید کے باوجود ان کے دل میں میرے خلاف نفرت پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ میرے بارے میں معتدل رہے۔ بعد کو انہوں نے خود ہی مذکورہ مسلم سیاست سے علیحدگی اختیار کرلی۔
