وسعت ظرفی
مسٹر مہاویر تیاگی (وفات 1980)نے ایک کتاب لکھی اس کا نام ہے ’’اب میری کون سنے گا‘‘ آزادی کے بعد مہاتما گاندھی نے یہ جملہ کہا تھا۔ اسی کو مہاویر تیاگی نے اپنی کتاب کا عنوان بنا دیا۔ مہاویر تیاگی نے اس میں اپنا ایک قصہ لکھا ہے۔ مولانا محمد علی نے ایک بار کہا تھا کہ ایک گنہ گار مسلمان بھی میرے نزدیک مہاتما گاندھی سے بہتر ہے۔ مہاویر تیاگی کو محمد علی کا یہ جملہ بہت ناپسند ہوا۔ انھوں نے کانگرس کی ایک میٹنگ میں اس کے خلاف اپنا رزولیوشن رکھا۔ اس میٹنگ کے چیئرمین اتفاق سے خود محمد علی تھے۔ گاندھی جی نے کہا کہ اس رزولیوشن کو پیش ہونے سے روک دیا جائے۔ محمد علی نے بحیثیت چیئرمین کہا کہ میں کسی کے کہنے سے اس کو روک نہیں سکتا۔ البتہ خود مہاویر تیاگی چاہیں تو اس کو واپس لے سکتے ہیں۔ گاندھی جی نے مہاویر تیاگی کو سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اپنا رزولیوشن واپس لینے پر راضی نہیں ہوئے۔
اس کے بعد گاندھی جی مہاویر تیاگی کو تھوڑی دیر کے لیے الگ لے گئے۔ انھوں نے مہاویر تیاگی سے کہا کہ اختلافی معاملہ میں بدھیوان کی بات مانی جاتی ہے یا بیوقوف کی۔ مہاویر تیاگی نے کہا کہ بدھیوان کی۔ گاندھی نے کہا کہ پھر یہ بتاؤ کہ تم زیادہ بدھیوان ہو یا میں۔ مہاویر تیاگی نے کہا کہ آپ مجھ سے زیادہ بدھیوان ہیں۔ گاندھی جی نے کہا کہ پھر میں کہتا ہوں کہ اس رزولیوشن کو واپس لے لو۔ اس لیے کہ محمد علی ہمارے دوست ہیں ۔ اور دوست کی بری بات کا بھی سہن کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد مہاویر تیاگی نے اپنا رزولیوشن واپس لے لیا۔
