25جنوری1996
ہندستان کے ایک معروف عالم دین نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ تاریخ اسلام پر نظر رکھنے والے ایک طالب علم کی یہ بات سن لیجیے کہ ہم نے ہمیشہ اپنے اندرونی اختلافات سے شکست کھائی ہے۔ (بانگ درا، لکھنؤ، جنوری1996)۔عرب دنیا کے مشہور عالم الشیخ محمد الغزالی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا:إِذَا عَجَزَالمُسْلِمُونَ عَنْ الوَحْدَةِ وَالِاتِّفَاقِ فَلَيْسُوا أَهْلًا لِلْبَقَاءِ(العالم الاسلامی، مکہ،13-17شعبان1406)۔ یعنی، مسلمان جب اپنے درمیان اتحاد و اتفاق قائم نہ کرسکیں تو وہ اس دنیا میں قیام وبقا کے اہل نہیں رہتے۔
آج تمام دنیا کے مسلمان یہی بات کہہ رہے ہیں۔ سارے لوگ مسلمانوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ اختلافات کو فتح کرکے متحد ہوجائیں تاکہ وقت کے چیلنج کا مقابلہ کر سکیں ۔ مگر یہ بات ادھوری ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ اختلافات کو نظرانداز کرتے ہوئے متحد ہوجائیں۔ کیوں کہ انسانوں کے درمیان اختلافات کا ختم ہونا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ جو چیز ممکن ہے وہ صرف یہی کہ اختلافات کو نظرانداز کرکے اتحاد پیدا کیا جائے۔ صحابہ کرام کے زمانہ میں جو اتحاد تھا وہ اسی طرح تھا اور آئندہ جب بھی اتحاد ہوگا اسی طرح ہوگا۔ اتحاد ہمیشہ صبر کی قیمت پر حاصل ہوتا ہے ، نہ کہ خاتمہ اختلاف کی قیمت پر۔
