11جولائی 2007
ایک بڑے عالم دین کا اسی مہینہ میں انتقال ہوگیا۔ وہ ایک مخلص اور با اصول آدمی تھے ، ان کے بارے میں ایک مضمون ماہ نامہ الفرقان (لکھنؤ)جولائی 2007میں چھپا ہے ۔ مضمون نگار مولانا کے شاگرد ہیں ۔ اُن کے بارے میں وہ لکھتے ہیں :
’’مولانا کو فقہ حنفی سے خاص مناسبت تھی ۔ بلکہ اس کے بارے میں شدید تھے۔ ایک مرتبہ خود فرمایا کہ میرا ذہن حنفیت کے لیے دلائل ڈھونڈنے میںویسے چلتا ہے ، جیسے ڈھال پر پانی ۔ لیکن اِس کے باوجوددیگر مسالک کے علما وائمہ کے احترام اور ان کے مسالک کے بیان میں کوئی کمی نہ ہوتی تھی ۔ ‘ ‘ (صفحہ 46)
حنفیت کیا ہے ۔ حنفیت ، دراصل جزئیات شریعت میںمختلف ترجیحات کے درمیان ایک ترجیح کو اختیار کرنے کا نام ہے ۔ میںسمجھتا ہوں کہ اِس معاملے میں تصلّب ، غلو کی تعریف میںآتاہے ۔ میری سمجھ کے مطابق ، جزئیات میں تصلّب درکار نہیں ہے ، بلکہ توسّع اور تنوّع درکار ہے ۔ یہ بات خود حدیث سے ثابت ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ (جامع بیان العلم و فضلہ، حدیث نمبر 1760)۔ یعنی، میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو، تم ہدایت پر رہوگے۔ اس حدیث ِ رسول سےمعلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کے درمیان جزئیات شریعت میں اختلاف ہوگا۔ اگر اختلاف نہ ہو تو یہ کہنے کا کوئی مطلب نہیں کہ:بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ( تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو، تم ہدایت پر رہوگے)۔ ایسی حالت میں جو لوگ فقہی جزئیات میںتشدد دکھاتے ہیں ، وہ صرف یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ انھیں دین کی معرفت ِاعلیٰ حاصل نہیں ہوئی ۔ میرے تجربے کے مطابق ،معرفت ِ اعلیٰ کے ساتھ یہ ذہن جمع نہیں ہو سکتا۔
