8 دسمبر 1991 ء
فقہ کا ایک اصول وہ ہے جس کو استحسان کہا جاتا ہے۔ فقہائے اربعہ میں سے تین نے اس کو مانا ہے۔ خاص طور پر احناف نے اس کو بہت استعمال کیا ہے۔ استحسان سے مراد یہ ہے کہ ظاہری قیاس کو چھوڑ کر اس طریقہ کو اختیار کرنا جو لوگوں کے لیے زیادہ مناسب ہو :الاِسْتِحْسَانُ تَرْكُ القِيَاسِ وَالأَخْذُ بِمَا هُوَ أَوْفَقُ لِلنَّاسِ (المبسوط للسرخسی، جلد10، صفحہ145)۔
مثلاً ایک آدمی کسیجو تا ساز کے یہاں جاتا ہے۔ وہ اس سے جوتے کی قیمت طے کرتا ہے اور اپنا ناپ دے کر اس کو اپنے لیے ایک جو تا بنانے کا آرڈر دیتا ہے۔ قیاس کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ درست نہیں۔ کیوں کہ حدیث کے مطابق ، شریعت کا اصول یہ ہے کہ سودے کی موجودگی اس کی بیع کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ اور مذکورہ مثال میں سودا (جوتا ) ابھی موجود نہیں۔ مگر عرف عام کی بنا پر اس کو درست قرار دیا گیا ہے۔ اور اس کا نام استحسان ہے۔
مگر امام شافعی اس کے سخت خلاف ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ جس آدمی نے استحسان سے کام لیا اس نے نئی شریعت بنائی :مَنِ اسْتَحْسَنَ فَقَدْ شَرَعَ، أَي وَضَعَ شَرْعًا جَدِيدًا (بیان المختصر شرح مختصر ابن الحاجب ،جلد 3، صفحہ 280)۔
اس قسم کے بے شمار اختلافات فقہا کے یہاں پائے جاتے ہیں۔ مگر آج ایسا کوئی اختلاف کیا جائے تو اس کو نہایت برا سمجھا جاتا ہے۔
