5جون1996

الاحنف بن قیس تابعی حلم و بردباری کے لیے مشہور ہیں۔ لوگوں کی سختیوں کے مقابلہ میں وہ اتنا تحمل کرتے تھے کہ ان کو ابوبحر کہا جانے لگا۔ یعنی سمندر کا باپ۔ وہ عرب کے قبیلہ بنو تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے اور72ھ میں ان کا انتقال ہوا۔

وہ اگرچہ حلم وبردباری میں ضرب المثل بن گئے تھے۔ مگر وہ اپنے بارے میں کہا کرتے تھے کہ:إِنِّي لَسْتُ بِحَلِيمٍ وَلَكِنِّي أَتَحَالَمُ (طبقات ابن سعد، جلد7، صفحہ66)۔ یعنی میں بردبار نہیں ہوں بلکہ میں بہ تکلف بردباری اختیار کرتا ہوں۔

تقریباً یہی معاملہ میرا بھی ہے۔ میں گھر سے باہر تک ہر جگہ تحمل کا طریقہ اختیار کرتا ہوں۔ حتیٰ کہ میں اس کا مشن چلارہا ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے اندر بے پناہ غصہ ہے۔ اصول کے خلاف معمولی بات پر بھی مجھے غصہ آجاتا ہے۔ مگر دو چیزوں نے مجھے ٹھنڈا کررکھا ہے۔ ایک تو یہ کہ اللہ کو تحمل پسند ہے۔ دوسرے یہ کہ موجودہ دنیا میں یہی واحد قابل عمل روش ہے۔ عدم تحمل کا طریقہ موجودہ دنیا میں سرے سے چلنے والا نہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion