اختلافِ کثیر
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت میں جو فتنے پیدا ہونے والے تھے، اس کے بارے میں بہت سی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ مثلاً ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا (سنن أبی داؤد، حدیث نمبر4607)۔ یعنی، میرے بعد تم میں سے جو لوگ زندہ رہیں گے، وہ بہت زیادہ اختلافات دیکھیں گے۔
اس دورِ اختلاف میں امت کے افراد کو کیا کرنا ہے، اس کے بارے میں روایتوں میں امت کے لیے آپ کی مختلف ہدایات آئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے:مَنْ كَانَ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2887)۔یعنی، جس شخص کے پاس اونٹ ہو، وہ اپنے اونٹ سے ملحق ہوجائے اور جس شخص کے پاس بکری ہو، وہ اپنی بکری سے ملحق ہوجائے اور جس شخص کے پاس کھیت ہو، وہ اپنے کھیت کے ساتھ ملحق ہوجائے۔
اس کا مطلب یہ ہے، کہ جب امت میں اختلاف وانتشار پیدا ہوجائے تو اس وقت ایک خداترس مومن کو یہ کرنا ہے کہ وہ خود اپنے آپ میں مشغول ہوجائے، اس کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے اوپراحتسابی نظر ڈالنے کے بجائے خود اپنے آپ پرفوکس کرے، اصلا ح غیر کا جھنڈا اٹھانے کے بجائے وہ اصلاحِ خویش کو اپنا کنسرن (concern)بنالے۔ وہ محدود دائرے میں اپنی ذاتی ذمہ داریوں کو اداکرتے ہوئے دوسروں کے لیے دعائے خیر کرے۔
اختلاف و انتشار کی صورتِ حال دراصل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ امت دورِزوال میں پہنچ جائے۔ ایسے حالات میں اصلاحِ غیر کی مہم چلانا عملی نتیجے کے اعتبار سے صرف اختلاف و انتشار کو بڑھاوا دینے کے ہم معنی ہوتا ہے؟ اس لیے ایسے حالات میں نتیجہ کو دیکھتے ہوئے اپنے عمل کا منصوبہ بنانا چاہیے، نہ کہ صرف اپنے ذہنی معیار کو سامنے رکھ کر۔
