7 دسمبر 1994
عبد الحسیب خاں صاحب ملاقات کے لیے آئے۔ وہ کراچی (گلشن اقبال )میں رہتے ہیں۔ ان کا دواؤں کا بزنس ہے ۔
گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ بھوپال میں میرے عزیز ہیں ۔ ان سے ملنے کے لیے آیا ہوں۔ مگر میں صرف چار دن رہ سکوں گا۔ کراچی میں میرے بچے ہیں۔ اور وہاں زندگی اس قدر غیر محفوظ ہے کہ کسی بھی وقت کوئی حادثہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہاں زیادہ ٹھہرنا ممکن نہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کراچی میں ہر روز ایک درجن آدمیوں کے قتل کا اوسط ہے۔
میں نے کہا کہ 1947 سے پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ ہندو اور مسلمان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے ہمیں پاکستان کی ضرورت ہے۔ پھر پاکستان میں مسلمان کیوں نہیں مل کر رہ رہے ہیں۔ وہ اس کا کوئی خاص جواب نہ دے سکے ۔ میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ اختلاف زندگی کا ایک حصہ ہے۔ مثلاً میاں بیوی کے تعلق کو لیجیے ۔ شہزادہ چارلس سے لے کر اب تک کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کے اور اس کی بیوی کے درمیان بار بار اختلاف نہ ہو تا ہو ۔ مگر ہم اس کو ایڈ جسٹمنٹ کا مسئلہ بناتے ہیں ، نہ کہ تفریق کا مسئلہ ۔ اگر اختلاف کو تفریق کا مسئلہ بنایا جائے تو ہر شادی آخر کار طلاق پر ختم ہوگی۔
ہندو اور مسلمان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ قانون فطرت کے تحت دونوں میں اختلافات واقع ہوں گے۔ مگر ان اختلافات کو ہمیں ایڈ جسٹمنٹ کا اشو بنانا تھا ، نہ کہ تقسیم ملک کا اشو ۔ اختلافات کو تفریق کا اشو بنانے ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں میں ایڈ جسٹمنٹ کا ذہن نہیں۔ پہلے وہ ہندوؤں سے لڑتے تھے ، اب خود آپس میں لڑتے ہیں۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ لوگوں کی سوچ کو بدلا جائے۔
