امریکا کے سفر (1993) میں ایک فلسطینی نوجوان سے اسلامک سوسائٹی(آرنج کاؤنٹی) میں ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے بعد انہوں نے فرائڈے رپورٹ(The Friday Report) کے تین شمارے برائے مطالعہ دیے۔ یہ دارمکہ ڈینور(Denver) کی طرف سے ہر ماہ’’اسلامک نیوزلیٹر‘‘ کے طور پر شائع ہوتا ہے۔اس نیوز لیٹر کے شمارہ اکتوبر۔ نومبر1993(جمادی الاول4141ھ) میں فتویٰ کا ایک صفحہ تھا۔ اس میں بتایا گیا کہ یہ فتاویٰ اہل السنۃ و الجماعۃ کے علما کی طرف سے دیے گئے ہیں۔ ایک سوال یہ تھا کہ کیا یہ جائز ہے کہ ایک غیر اسلامی ملک میں ایک مسجد بیچ کر دوسری زیادہ بڑی جگہ خریدی جائے۔ اس کے جواب میں بتایاگیا تھا کہ بیچنا اور جگہ کا بدلنا دونوں جائز ہے۔
Q. Is it permissible to sell a mosque in a non-Islamic country in order to buy a bigger one?
A. If the mosque is ruined or not big enogh and they have to demolish or sell it, it is permissible to sell it and to buy or build another one or transfer it to another place for the interest of the Muslims. (p.3)
اس کو پڑھ کر میں نے ایک صاحب سے کہاکہ اس قسم کا فتویٰ اگر انڈیا کا کوئی عالم دے تو شاید فوراً ہی دوسرا جوابی فتویٰ شائع ہوگا جس میں اعلان کیا جائے گا کہ جس شخص نے ایسا فتویٰ دیا ہے وہ مباح الدم ہے، اس کو ذلت کے ساتھ قتل کر دینا چاہیے۔ مگرامریکا میں یہ فتویٰ چھپ رہا ہے اور انٹرنیشنل سیرت کانفرنس میں وہ تقسیم کیا جا رہا ہے مگر کوئی اس کے خلاف احتجاج کرنے والا نہیں۔ ہندوستان اورامریکا کا یہی فرق ہے جس نے ایک ملک کو مسلمانوں کے لیے فساد کا ملک بنا دیا ہے اور دوسرے کو امن کا ملک۔
