17جون1996
تحریک ہمیشہ متحدہ طاقت سے کامیاب ہوتی ہے، اور کسی تحریک کے متحدہ قوت بننے کی واحد شرط یہ ہے کہ اس کے افراد شکایت اور اختلاف سے اوپر اٹھ کر متحد ہونا جانتے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے اصحاب :بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ (سیسہ پلائی ہوئی دیوار)کی طرح متحد ہوگئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں اختلاف یا شکایتیں نہ تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہاں بھی ہرقسم کی انسانی شکایتیں موجود تھیں۔ مگر اصحاب رسول نے ان سے اوپر اٹھ کر ہر جہاں میں اپنا اتحاد برقرار رکھا۔
مثلاًغزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچادشمنوں کی طرف سے آئے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی ان کو قتل نہ کرے۔ ابو حذیفہ صحابی نے کہا، کیا ہم اپنے باپ اور اپنے بیٹوں، اپنے پوتوں، اپنے بھائیوں کو قتل کریں اور عباس کو چھوڑدیں۔ یہ لمبا قصہ ہے جو سیرۃ ابن ہشام (جلد2 ،صفحہ197)میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح حضرت علی جن کے عقد میں فاطمہ بنت محمد تھیں، انہوں نے بنومخزوم کی لڑکی سے دوسراعقد کرنا چاہا تو رسول اللہ نے نہایت سختی کے ساتھ منع کردیا۔ اس کی تفصیل صحیح مسلم فضائل فاطمہ کے تحت دیکھا جا سکتا ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2449)۔
دورِاول میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو جماعت مسلمین میں زبردست اختلاف وانتشار پیدا کرنے کے لیے کافی تھے۔ مگر ہر بار ایسا ہوا کہ اصحابِ رسول تمام شکایتوں کو پی گئے اور اللہ کی رضا کے لیے اپنے اتحاد کو آخر وقت تک برقرار رکھا۔ موجودہ زمانہ میں خود میرے ساتھ بار بار ایسا پیش ہوا ہے کہ لوگ میرے مشن کے ساتھ جڑے اور پھر معمولی شکایت پیش آنے پر ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں نہ مسلمانوں کا اتحاد قائم ہوتا اور نہ کوئی بڑا کام انجام پاتا۔
