16ستمبر2005
ایک لمبی حدیث ہے جس کے اندر یہ الفاظ آئے ہیں:الْجَمَاعَةُ رَحْمَةٌ، وَالْفُرْقَةُ عَذَابٌ (مسند احمد،حدیث نمبر18449)۔ جماعت رحمت ہے، اورنا اتفاقی عذاب ہے۔ اس حدیث میں عام طور پر لوگ جماعت کو تنظیم کے معنی میں لے لیتے ہیں، یعنی تنظیمی گروہ۔ مگر یہ غلط ہے۔ اس حدیث میں جماعت سے مراد ملّی اتحاد ہے۔ اور فرقہ سے مراد ملّی انتشار ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب ملت کے اندر اتحاد ہوگا تو وہ ہر اعتبار سے کامیاب ہوگی اور جب اس کے اندر انتشارہوگا تو وہ بے عزت اور ناکام ہوجائے گی۔
Book :
