3اکتوبر 1990ء کو طرابلس سے پی آئی اے کی فلائٹ نمبر 720 کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ 4 اکتوبر کو صبح ساڑھے چار بجے کراچی پہنچا۔ یہاں ٹرانزٹ پسنجر کے طور پر دو دن قیام رہا۔
4 اکتوبر کو ظہر کی نماز گلشن اقبال (بلاک نمبر 7) کی جامع مسجد میں پڑھی۔ پوری مسجد ایک بڑے ہال کی صورت میں ہے۔ اس کے اندر اور باہر بالکل فطرت کا ماحول ہے۔ نماز پڑھتے ہوئے ایسامحسوس ہوا کہ میں ایک روحانی مرکز میں ایک روحانی عمل اداکررہا ہوں۔ جب میں مسجد کے اندر بیٹھا ہوا تھا، مجھے خیال آیا کہ اگر مسلمان ان تمام جھگڑوں کو ختم کر دیں جن کو وہ اسلام کے نام پر غیرضروری طور پر جاری کیے ہوئے ہیں اور اسلام کی نمائندگی کے لیے صرف اس قسم کی مسجدیں دنیا میں باقی رہیں تو دنیا کی آدھی آبادی صرف ان مسجدوں کو دیکھ کر اسلام قبول کر لے۔ دوسرے مذاہب کے عبادت خانوں کے مقابلہ میں مسجد کا ماحول نہایت فطری اورسادہ ہوتا ہے۔ مگر مسلمانوںکی بے فائدہ سیاسی اور مادی اور قومی ہنگامہ آرائیوں نے اسلام کے اس فطری حسن پر پردہ ڈال دیا ہے۔ اگر مسلمان صرف اتنی قربانی کریں کہ وہ کچھ نہ کریں تو اسلام اپنے آپ دنیا کو اپنی طرف کھینچے گا اور لوگ جوق در جوق دین فطرت کے دائرہ میں داخل ہو جائیں گے۔
ایک پاکستانی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اس سال ہائی اسکول پاس کیا ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ میں نے سنا ہے کہ پاکستان میں ہندو لڑکے تعلیم کے میدان میں مسلمان لڑکوں سے آگے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہاں ، یہ بات صحیح ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس کا راز کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میرے ایک استاد نے ایک مرتبہ یہی بات ہم لوگوں سے کہی۔ انہوں نے اس کا راز یہ بتایا کہ ہندو لڑکوں میں مل کر پڑھنے (combined study)کا رواج ہے۔ مل کر پڑھنے سے ہر ایک کو دوسرے کی معلومات کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، ایک طالب علم ذاتی طور پر پڑھے تو اس کو ایک درجہ فائدہ ملے گا۔ مگر جب کئی طالب علم مل کرمطالعہ کریں تو ہر ایک کو کئی گنا زیادہ فائدہ ملنے لگتا ہے۔
کراچی کے روزنامہ جنگ (3 اکتوبر) میں ’’جنگ الیکشن سیل‘‘ کی طرف سے ایک تجزیہ چھپا تھا اس میں 1988ء میں ہونے والے الیکشن کی ان 34 نشستوں کا ذکر تھا جو اسلامی جمہوری اتحاد اور دوسری جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو مل گئیں۔ ان جماعتوں میں ووٹ بٹ جانے کے باعث پیپلز پارٹی جیت گئی۔
مضمون میں بتایا گیا تھاکہ یہ پوری سچائی نہیں۔ مضمون نگارنے نام بنام تفصیل کے ساتھ بتایا تھا کہ یہی واقعہ خود پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی پیش آیا۔ اس کے اپنے دائرہ میں بھی کئی جگہ امیدواروں کی کثرت کی بنا پر اس کے ووٹ بٹ گئے اور وہ اسلامی جمہوری اتحاد کے مقابلہ میں ہار گئی۔ مضمون نگار نے لکھا تھاکہ اس نے باقاعدہ تفصیلات جمع کیں تو حیرت انگیز طور پر ان نشستوں کی تعداد بھی 34 ہی تھی جو پیپلز پارٹی نے ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر کھو دیں۔ یعنی اپنے ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر اسلامی جمہوری اتحاد نے بھی 34 نشستیں کھوئیں اور اسی طرح پیپلز پارٹی نے بھی ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر 34 نشستیں کھو دیں۔
اختلافی معاملات میں لوگ اکثر ایساکرتے ہیں کہ وہ اپنے موافق آدھی بات کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے مخالف آدھی بات کا ذکر نہیں کرتے۔ یہ طریقہ نہ عقل کے مطابق ہے اور نہ اسلام کے مطابق۔ جو لوگ اس طرح کی باتیں کریں وہ ہمیشہ حقیقت کی دریافت میں ناکام رہتے ہیں۔
