16جولائی 2010
حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانہ میں اسلام میں دَخَن پیدا ہو جائے گا(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3606)۔ یعنی نقص یا کمزوری ۔
یہ پیشن گوئی پوری طرح درست ثابت ہوئی ۔ بعد کے زمانے کے مسلمانوں نے صرف ایک کام آئڈیل انداز میں کیا۔ وہ ہے قرآن کی حفاظت ۔ یہ کام آئیڈیل انداز میں اس لیے ہو سکا کہ براہ راست خدا نے اس کا ذمہ لے لیا ہے۔ اس کے سوا ہر کام جو مسلمانوں نے کیا اس میں کوئی نہ کوئی نقص شامل ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں نے قرآن کی تفسیر کی تو اس سے منصوبۂ تخلیق سے آگاہی کو حذف کر دیا۔ اسی طرح انھوں نے احادیث رسول کی تدوین کی تو اس میںہر قسم کے ابواب موجود تھے، مگر یہاں بھی منصوبۂ تخلیق سے آگاہی کا باب حذف تھا۔ پھر مسلمانوں نے فقہ کی تدوین کی تو اختلافات کو توسع پر محمول کرنے کے بجائے اس میں ترجیح کا اصول منطبق کر دیا۔ اسی بنا پر کئی فقہی اسکول بن گئے۔ انھوں نے تاریخ لکھی تو اسلامی تاریخ کی تصغیر کر کے اس کو محض سیاست نامہ بنا کر رکھ دیا۔ بیسویں صدی میں مسلمانوں کا سیاسی زوال ہو ا تو دوبارہ مسلمانوں کو سیاسی احیا پر ابھارنے کے لیے اسلام کی سیاسی تفسیر کر ڈالی ۔ اس طرح وہ چیز جو ایک عملِ مسلک کی حیثیت رکھتی تھی، اس کو عقیدہ کا مسئلہ بنا دیا، وغیرہ۔
