نئی دہلی میں سینیگال کی ایمبیسی موجود ہے۔ جو صاحب اس سفر(مئی 1990ء)کے لیے سینیگال ایمبیسی میں میرا ویزا لینے کے لیے گئے تھے، انہوں نے بتایا کہ ویزا افسر نے پاسپورٹ میں میری تصویر دیکھی تو کہاکہ میں ان کو جانتا ہوں۔ ہم کو خوشی ہے کہ وہ ہمارے ملک میں جا رہے ہیں۔
ویزا افسر کے اس طرح ’’پہچاننے‘‘ کا سبب یہ تھا کہ ٹائمس آف انڈیا (10 دسمبر 1989 ء) میں میرا انٹرویو چھپا تھا۔ اس میں انٹرویور نے میری تصویر بھی چھاپ دی تھی۔ مذکورہ افسر نے کہا کہ میں نے اس انٹرویو کو پڑھا تھا اور اس میں ان کی تصویر دیکھی تھی۔ یہ تصویر اب بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ موجودہ زمانہ کے نئے امکانات میں سے ایک امکان یہ ہے کہ ایک شخص کسی آدمی کو براہ راست نہ دیکھے، اس کے باوجود وہ اس کو اس کی صورت سے پہچانتا ہو۔
اس زمانہ میں تصویری صحافت نے انسان کے اوپر جو نئے مواقع کھولے ہیں، ان کی یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ ہندوستان کے علما تصویر کو ناجائز بتاتے ہیں، مگر یہی علما عرب شخصیتوں کا اپنے اداروں میں استقبال کر رہے ہیں، جب کہ یہ عرب لوگ تصویر کو عین جائز سمجھتے ہیں۔
ہندوستان کے دو عالموں کے درمیان اگر اختلاف ہو تو دونوں کے درمیان نزاع قائم ہو جاتی ہے۔ مگر یہی اختلاف ہندستانی عالم اور عرب عالم کے درمیان ہو تو ہندستانی عالم اس کو خندہ پیشانی کے ساتھ گوارا کر لیتا ہے۔ اس فرق کا سبب کیا ہے، یہ ایک نازک معاملہ ہے۔ مگر اس سے پردہ اٹھانا شاید خدا کے سوا کسی اور کے اختیار میں نہیں۔
