28ستمبر کو ظہر کی نماز قاہرہ کی مسجد ابی بکر الصدیق(شارع عبدالعزیز فہمی) میں پڑھی۔اس پر تعمیر کا سن1957لکھا ہوا تھا۔ مسجد کشادہ تھی۔ مسجد سے متصل ایک کمرہ تھا جس میں امام کا دفتر تھا۔ اس میں میز کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ میز کے اوپر ٹیلی فون رکھا ہوا تھا۔ نمازیوں کی اکثریت کے سر پر ٹوپی نہ تھی۔ امام نے نماز ختم کی تو اجتماعی دعا کے بغیر اٹھ کر اپنے کمرہ میں چلے گئے۔ اس قسم کی چیزیں ہندوستان میں اجنبی سمجھی جائیں گی۔ مگر عرب دنیا میں اس قسم کی چیزیں عام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فقہی جھگڑے صر ف برصغیر ہند میں پائے جاتے ہیں۔ عالم عرب میں اس قسم کے جھگڑوں کا کوئی وجود نہیں۔
اس فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کچھ عرب حضرات سے میں نے کہا کہ عبادت میں کچھ ارکان ہیں اور کچھ آداب۔ ارکان میں کوئی اختلاف نہیں۔ مگر آداب کے بارے میں صحابہ کی روایتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ جب احادیث جمع کی گئیں اور یہ اختلافات سامنے آئے تو محدثین نے ان کو توسع پر محمول کیا اور کہا کہ اِس پر عمل کر لو تب بھی ٹھیک ہے، اور اُس پر عمل کر لو تب بھی ٹھیک ہے۔ مگر فقہا نے کہاکہ الحق لا يتعدد(حق کئی نہیں ہو سکتا)۔ اس وقت عالم اسلام، بڑی تقسیم میں دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ عرب ملکوں میں محدثین کا نقطہ نظر مقبول ہوا۔ اس بنا پر وہاں توسع کا مزاج پایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس،برصغیر ہند میں فقہا کا نقطہ نظر پھیلا۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں محدثین کا نقطہ نظر ہی درست ہے۔ اور اگر عرب دنیا کی طرح برصغیر میں بھی محدثین کا نقطہ نظر آجائے تو تمام غیر ضروری جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں۔
29 ستمبر کو عصر کی نماز قاہرہ کی مسجد الامین (شارع اسماعیل صبری باشا) میں پڑھی۔ یہ ایک چھوٹی مگر صاف ستھری مسجد تھی۔ اس کے ایک گوشہ کو منبر کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ مسجد کے اندر دو الماری میں کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ یہ کتابیں تفسیر، حدیث، فقہ اور علم العقائد وغیرہ سے تعلق رکھتی تھیں۔
وقت ہوا تو امام مصلے پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے اقامت کہی، اس کے بعد خود ہی نماز پڑھائی۔ نمازیوں کی تعداد ایک صف سے زیادہ نہ تھی۔ نماز پوری کرنے کے بعد امام نے اپنے دائیں طرف چہرہ کرکے السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا اور بائیں طرف السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ اس کے بعد اجتماعی دعا کے بغیر لوگ اٹھ کر چلے گئے۔
برصغیر ہند میں فقہی اختلاف نے ملت کو مختلف طبقوں میں بانٹ رکھا ہے۔ عالم عرب میں یہ چیزیں موجود نہیں۔ البتہ ایک اور چیز مزید شدت کے ساتھ موجود ہے، اور وہ سیاسی اختلاف ہے۔
اس سلسلے میں ڈاکٹر عبد الحلیم عویس مصری سے بات چیت ہوئی انھوں نےکچھ مسلم لیڈروں کا ذکر کیا جنہوں نے اپنے غلط عمل کے ذریعہ ملت کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ مگر مسلمانوں کے درمیان اب بھی ان کو بڑائی کا مقام حاصل ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ مسلمان ایک ایسی قوم ہیں جو اپنے مفسدین کو عظمت کا درجہ دیتے ہیں(امۃ’‘ تُعَظِّمُ مفسدِیھا)۔
